پنجاب اسمبلی:270 ارب 53 کروڑ کے 10 مطالباتِ زر منظور

پنجاب اسمبلی:270 ارب 53 کروڑ کے 10 مطالباتِ زر منظور

بجٹ پر گرما گرم بحث، حکومت،اپوزیشن آمنے سامنے ، 9 تحریکِ کٹوتی مسترد شعیب امیر اور مجتبیٰ شجاع میں سخت جملوں کا تبادلہ، اجلاس ہفتہ تک ملتوی

 لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 41 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا، جہاں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے حکومتی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کیا، جبکہ اپوزیشن ارکان نے مختلف محکموں کے مطالباتِ زر پر تنقید کی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن شعیب امیر اور وزیر  خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایوان نے مجموعی طور پر 270 ارب 53 کروڑ روپے کے 10 مطالباتِ زر منظور کر لیے جبکہ اپوزیشن کی 9 تحریکِ کٹوتی مسترد کر دی گئیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں تاریخی کردار ادا کیا، جس سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے ۔ پنجاب نے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید معاونت بھی دی جائے گی۔ اپوزیشن نے بجٹ سے زیادہ سیاسی گفتگو کی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے اعداد و شمار بھی غلط انداز میں پیش کیے گئے ۔

بریگیڈیئر (ر) مشتاق احمد نے پولیس اور صحت کے نظام پر تنقید کی، جبکہ سردار محمد علی نے بجٹ کو حکومتی تشہیر قرار دیتے ہوئے صحت کے منصوبوں اور اداروں کی نجکاری پر سوالات اٹھائے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات دستیاب نہ ہوں تو وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔محمد طاہر نے کوہِ سلیمان کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور پولیس نظام پر اعتراضات اٹھائے ، جبکہ حافظ فرحت نے کرپٹ پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور نفسیاتی ٹیسٹ کی تجویز دی۔ اعجاز شفیع نے دو مرتبہ کورم کی نشاندہی کی، تاہم حکومت کورم پورا کرنے میں کامیاب رہی۔اجلاس کے دوران دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب رانا شہباز نے سپیکر سے شکوہ کیا کہ وہ اپوزیشن کی طرف بھی توجہ دیں، جس پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے جواب دیا: ‘‘میں دیکھ رہا ہوں، میں نے تو کل آپ کی حلیم بھی کھائی، بڑی کراری تھی’’۔ اس جملے پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے ۔محکمہ داخلہ اور پولیس کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران شعیب امیر نے کہا کہ اگر ان کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آئی اور حکومتی ارکان کو ویسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑا جیسے پی ٹی آئی کارکنوں نے کیا، تو وہ استعفیٰ دے دیں گے ۔ ان کے اس بیان پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کیا۔جواب میں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ انہیں کسی کی رگوں سے خون نکالنے کا شوق نہیں، کسی سیاسی کارکن کو نقصان پہنچے تو انہیں افسوس ہوگا، تاہم انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کارروائی مکمل ہونے پر اسمبلی کا اجلاس ہفتہ دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں