رخصتی نہ بھی ہوخاتون مہر کی حقدار :لاہور ہائیکورٹ
خلع کی صورت میں خاتون 25 فیصد مہر شوہر کو واپس کریگی :تحریری فیصلہ بقایاجات پر سالانہ اضافہ نہیں لگ سکتا:نان و نفقہ بارے بھی قانونی نکتہ طے
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق اہم تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے قانونی نکتہ طے کردیا ۔ جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اذکا آفرین کی درخواست پرجاری 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا، اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا ۔فیصلے کے مطابق خلع یعنی عورت کی طرف سے شادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے ۔ ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے اذکا آفرین کی درخواست منظور کر لی۔علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے خرچہ نان و نفقہ کے حوالے سے دائر اپیل کی سماعت کے بعد نیا قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق کا اطلاق ماضی کے بقایاجات پرلاگو نہیں ہوسکتا۔ عدالت میں درخواستگزار رانا تسنیم اعجاز نے موقف اختیار کیا تھا کہ ماتحت عدالت نے ماضی کے 6 سال پرانے خرچے پر بھی10 فیصد سالانہ اضافہ لگا دیا، فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے ۔عدالت نے د لائل مکمل ہونے پر جاری تحریری فیصلہ میں مزید قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے 10 فیصد سالانہ اضافہ کوماضی سے شامل کر کے دائرہ اختیار کی سنگین غلطی کی ۔ لاہورہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیئے اور اپیل نمٹادی۔