پاکستان کے پاس سفارتی سرمایہ موجود، اب معاشی نتائج درکار
سازگار غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ایس آئی ایف سی کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے
(تجزیہ: سلمان غنی)
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی پالیسی تقریر کے دوران ایوان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ امر یکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمت کے بعد دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ثالث اور امن کے داعی ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ ان کے بقول چند سال قبل پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا قرار دیا جاتا تھا، لیکن آج عالمی برادری پاکستان کے کردار کو امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ۔ پاکستان کو مختلف بین الاقوامی فورمز سے دعوت نامے موصول ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر یہ پذیرائی خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی ذمہ دارانہ کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ بلاشبہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس نے سراہا ہے اور اس عمل نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر ابھارا ہے جو اہم عالمی معاملات میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کامیابیاں پاکستان کو معاشی طور پر بھی فائدہ پہنچا سکیں گی؟ کیا عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معاشی مشکلات کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے ؟ سفارتی کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن پائیدار فوائد کے حصول کے لیے انہیں معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے ۔پاکستان کی قیادت کو اندرونی سیاسی اور معاشی استحکام پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ملک میں ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔
سفارتی سرمایے کو اقتصادی اصلاحات، علاقائی اقتصادی انضمام اور ادارہ جاتی استحکام میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، ورنہ یہ کامیابیاں ماضی کی طرح صرف علامتی حیثیت اختیار کر کے رہ جائیں گی۔معاشی محاذ پر ٹیکس نیٹ میں توسیع، زراعت سمیت مختلف شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانا، محصولات میں اضافہ اور برآمدی صنعتوں کو فروغ دینا ضروری ہوگا۔ ان اقدامات سے نہ صرف قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی مضبوط ہوں گے اور قرضوں کے بوجھ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ایران کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانا مقصود ہے تو بنیادی ڈھانچے اور سکیورٹی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ توانائی، گیس اور پٹرولیم کے شعبوں میں تعاون پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ اسی طرح ترکی، وسط ایشیائی ریاستوں اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی و ثقافتی روابط کو بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔امریکا کے ساتھ معدنیات، توانائی، ٹیکنالوجی، کر پٹو کرنسی اور دیگر جدید شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں جبکہ چین کے ساتھ موجود سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید اقتصادی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ سی پیک جیسے منصوبوں کو فعال اور مؤثر بنا کر پاکستان علاقائی اقتصادی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر سکتا ہے ۔
اس مقصد کے لیے اداروں کو بااختیار بنانا، فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) جیسے پلیٹ فارمز کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔سفارتی اور ثالثی کردار اہم ضرور ہے لیکن یہ خود بخود سرمایہ کاری یا قرضوں میں ریلیف کی ضمانت نہیں بنتا۔ دنیا ان ممالک کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جو اپنے معاشی مسائل حل کرنے ، علاقائی استحکام میں کردار ادا کرنے اور مؤثر حکمت عملی اپنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے ۔ اگر سفارتی کامیابیوں کو معاشی منصوبوں، سرمایہ کاری اور علاقائی تجارت میں تبدیل کر لیا جائے تو ملک ایک مضبوط، مستحکم اور بااثر اقتصادی مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے ، بصورت دیگر یہ کامیابیاں محض خبروں اور سرخیوں تک محدود رہ جائیں گی۔ آج دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ اس سفارتی حیثیت کو قومی معیشت کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کیا جائے ۔