یکم جولائی سے فرد پر پابندی، لاہور انتظامیہ نے مزید 2 ماہ کی مہلت مانگ لی

یکم جولائی سے فرد پر پابندی، لاہور انتظامیہ نے مزید 2 ماہ کی مہلت مانگ لی

لین دین کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ،پراپرٹی رپورٹس ہی قابل قبول، 30موضع جات ڈیجیٹل نہ ہونے سے عمل رک گیا جیا موسیٰ شاہدرہ،ساندہ کلاں ، نوانکوٹ،نیازبیگ،گجومتہ،کوٹ لکھپت،باغبانپورہ،مناواں و دیگر میں فرد جاری رکھنے کا دعویٰ

لاہور (عمران اکبر )پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پلرا )نے پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 41-A اور لینڈ ریکارڈز اتھارٹی ایکٹ 2017 کے تحت صوبہ بھر میں یکم جولائی سے فرد کے استخراج پر پابندی عائد کردی جبکہ سب سے بڑے اور ماڈل و مرکزی شہر لاہورکے 364 موضع جات میں سے 30موضع جات ڈیجیٹل نہ ہونے سے گرین سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہو سکیں گے ،حالانکہ پلرا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب لین دین کیلئے صرف گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور پراپرٹی رپورٹس ہی قابل قبول ہوں گی۔ لاہور کی انتظامیہ نے بورڈ آف ریونیو سے مزید دو ماہ کی مہلت مانگ لی۔ انتظامیہ نے ان موضع جات میں فرد جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

دنیا نیوز نے لاہور کے 30مینوئل موضع جات کی لسٹ حاصل کر لی ۔فہرست کے مطابق تحصیل راوی میں موضع جیا موسیٰ شاہدرہ ،تحصیل لاہور سٹی میں موضع شیش محل ،ساندہ کلاں ،کھماک اور نوانکوٹ،تحصیل علامہ اقبال میں موضع نیازبیگ ،تحصیل لاہور کینٹ میں موضع کوٹ لکھپت ،تحصیل صدر میں موضع پٹھانہ ،تحصیل ماڈل ٹاؤن میں موضع چندرائے ،اجودھیا پور ،امر سدھو اور بھیکے وال ،تحصیل نشتر میں موضع گجومتہ ،کاہنہ نو ،اتھاری ،دولو خورد ،کماہاں ،جھیڈو اور کاچھا ،تحصیل شالیمار میں موضع باغبانپورہ ،کوٹ خواجہ سعید ،محمود بوٹی، شادی پورہ ،فتح گڑھ ،ہربنس پورہ اور تاج پورہ ،تحصیل واہگہ میں موضع مناواں ، جلواور لکھوڈیر ڈیجیٹل نہیں ہوسکے ۔پلرا حکام کا کہنا ہے کہ لینڈ ریکارڈز کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کیلئے گرین سرٹیفکیٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے ،اس سلسلے میں تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فوری عمل درآمد کروانے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں