خیبرپختونخوا اسمبلی:121ارب کا ضمنی بجٹ خزانہ پر ڈاکہ،حکومت کا پیچھا کرینگے:ناراض پی ٹی آئی رکن
ضمنی مطالبات زر میں مزید فنڈز رکھنے پر شدید اعتراضات، جوڈیشل انکوائری کرائی جائے :سجاد بارکوال کی حکومت پر تنقید خیبرپختونخوا تقسیم نہیں ہونے دینگے ، صوبہ ہزارہ بارے قرارداد متفقہ نہیں، اکثریتی بنیاد پر منظور ہوئی:اے این پی رکن نثار باز
پشاور (اے پی پی) خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے بعض ناراض ارکان نے اپنی ہی حکومت پر کڑی تنقید کی اور ضمنی مطالبات زر پر شدید اعتراضات اٹھا دیئے ۔ رکن اسمبلی سجاد بارکوال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ضمنی مطالبات زر میں مزید فنڈز مختص کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور 121 ارب روپے کے ضمنی بجٹ کو قومی خزانے پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ضمنی مطالبات زر کے اعداد و شمار کی باقاعدہ جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں، ان کا کہنا تھا ہم اسے تسلیم نہیں کرتے اور کسی صورت اس بجٹ کو قبول نہیں کریں گے ، اگر حکومت نے اس معاملے پر کوئی قدم نہ اٹھایا تو ہم اس کا پیچھا کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے اور شفاف انکوائری کرائی جائے ۔ علاوہ ازیں ہزارہ صوبے کے قیام سے متعلق قرارداد پر ایوان میں گرما گرمی ہوئی ، عوامی نیشنل پاٹی کے رکن نثار باز نے قرارداد کے طریقہ کار پر شدید اعتراضات اٹھائے ۔ سپیکر کے قرارداد کو متفقہ منظور قرار دینے پر نثار باز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد اکثریت کی بنیاد پر منظور کی گئی، اسے متفقہ قرار دینا درست نہیں۔ نثار باز نے کہا کہ وہ صوبے کی تقسیم کے خلاف ہیں اور کسی صورت خیبرپختونخوا کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے ۔ اس قرارداد کے خلاف پہلے ہی اپنی متبادل قرارداد جمع کرائی تھی اور آج اس کے خلاف اپنا موقف پیش کرنا ہے ۔ بحث کے دوران ماحول خاصا گرم رہا تاہم کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔