ذخیرہ اندوز بے لگام، اوپن مارکیٹ میں گندم نرخ بڑھا دیئے
صرف 3ماہ کے عرصے میں فی بوری 4000روپے کا خوفناک اضافہ بوری 11800میں فروخت، حکومتی رٹ سوالیہ نشان بن گئی ، چکی اونرز
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)سندھ بھر میں گندم مافیا اور ذخیرہ اندوز بے لگام ہو گئے ۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے حکومت کی رٹ اور کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔آٹا چکی اونرز سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق محض تین ماہ قبل جب سندھ میں گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آ ئی تھی تو 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت 7800 روپے تھی، تاہم ذخیرہ اندوزوں کی من مانیوں اور محکمہ خوراک سندھ کی گندم کی خریداری میں ناکامی کے باعث صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں فی بوری 4000 روپے کا خوفناک اضافہ ہو چکا ہے ۔ چار سے پانچ روز قبل تک جو بوری 11100 روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اس میں پانچ دنوں کے اندر 700 روپے کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد اب گندم کی بوری 11800 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔آٹا چکی اونرز ویلفیئر ایسوسی ایشن حیدرآباد کے جنرل سیکرٹری حاجی نجم الدین چوہان کا کہنا ہے کہ سندھ میں گندم کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے گندم درآمد کرنے کے لئے ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیرِ اعظم پاکستان کو دو اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کو ایک خط لکھا جا چکا ہے ۔ ان خطوط میں گندم امپورٹ کرنے کی استدعا کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا جس سے مافیا کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔