رجسٹریشن کیس: 3افغان خواتین کے خلاف کارروائی نہ کرنیکاحکم

رجسٹریشن کیس: 3افغان خواتین کے خلاف کارروائی نہ کرنیکاحکم

اٹارنی جنرل سے معاونت طلب،وفاقی حکومت اورڈی جی امیگریشن کو نوٹس جاری

اسلام آباد(نامہ نگار)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے پروف آف رجسٹریشن کارڈ پر پاکستان میں گزارا گیا عرصہ قانونی قیام میں شمار نہ کرنے پرتین افغان خواتین کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سے معاونت طلب کرلی جبکہ وفاقی حکومت، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کوجواب کیلئے نوٹس جاری کردیئے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے موقف اختیار کیاکہ پاکستانی شہریوں سے شادی کی بنیاد پر تینوں خواتین نے شہریت کی درخواست جمع کروائی،خواتین کی شادیاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم ہیں،خواتین کے بچے پاکستانی شہری ہیں،ڈی جی آئی اینڈ پی نے جواب دیاکہ خواتین پہلے ثابت کریں کہ کم از کم پانچ سال تک درست ویزا اور پاسپورٹ پر پاکستان میں مقیم رہی ہیں،دولتِ مشترکہ سے باہر کی خواتین کے لیے صرف ڈومیسائل ضروری ہے ،قیام کی پانچ سالہ شرط بنیادی قانون سے متصادم ہے ،استدعا ہے کہ پی او آر کارڈ پر پاکستان میں کیا گیا قیام قانونی قرار دیا جائے ،عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ مزیدسماعت ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں