رضا ڈار نے علی ڈار کو وزیر اور اپنا والد ظاہر کیا : غیر ملکی خواتین کے عدالتی بیانات میں سنگین الزامات
رضا کزن کے گھر لے کر گیا جہاں 4افراد نے گھس کر ماراپیٹا، رضا نے بھی مظلوم بننے کا ناٹک کیا،ایک شخص کو ہرکوئی باس کہہ رہا تھا رقم مانگنے پر بھائی ،والدین کو وائس نوٹ بھیجا،کوڈورڈ سے خطرے کا بتایا،رضا ڈار اور باس نے سترہ ہزار ڈالرزکرپٹو والٹ میں منتقل کئے رضا نے بتایا باس کو تمام رقم دیدی ،ہم جانے کیلئے آزاد ہیں،راستے میں گاڑی ٹکرائی تو ہم نکلیں،ٹریفک پولیس اہلکار نے بچایا:خواتین
لاہور (محمد اشفاق)لاہور میں سپین اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی تشدد کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 30 لاہور کینٹ کی عدالت میں دونوں متاثرہ خواتین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، ملزموں پر اغوا، یرغمال بنانے ، تشدد، تاوان طلب کرنے ، دھمکیاں دینے اور جنسی زیادتی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ہالینڈ کی 35 سالہ اسٹیفنی ایڈریانا نے اپنے بیان میں کہا :ہمیں یہاں پاکستان میں محمد احمد رضا ڈار نے مدعو کیا تھا۔ اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات کے بعد سے وہ ہمارا بزنس پارٹنر (کاروباری شراکت دار) تھا۔ اس شخص رضا ڈار کا دعویٰٰ ہے کہ وہ ایک وزیر علی ڈار کا بیٹا ہے ۔ اس نے ہمارے لیے ویزے کا بندوبست کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد میری کمپنی کیلئے نئے سرمایہ کاروں سے ملاقات کرنا تھا۔ ہم 26 جون کو پہنچے اور وہ ہمیں ایئرپورٹ سے اپنی گاڑی میں لینے آیا۔ 26 سے 29 جون تک ہم اسلام آباد کے بڑے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔
ہوٹل کے اخراجات میں نے ادا کیے ۔ رات 9:00 بجے رضا ڈار ہمیں ہوٹل سے اپنی سالگرہ کی تقریب کے لیے ایک ریسٹورنٹ لے جانے کے لیے آیا۔ اگلے دن 27 جون کو رضا ڈار ہمیں اپنی گاڑی میں نتھیا گلی لے گیا۔ ہم الپائن ریزارٹ گئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ 28 جون کو رضا ڈار ہمیں سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے لیے لے گیا۔ مجھے ان کے نام یاد نہیں ہیں۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ ایک شخص سٹار لنک کمپنی کو پاکستان لانے کے لیے کام کر رہا ہے ۔ میٹنگ کے بعد رضا ہمیں ایک مال میں شاپنگ کے لیے لے گیا اور ہم نے روایتی پاکستانی کپڑے خریدے ۔ ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں رات کا کھانا کھایا اور وہاں کے منظر سے لطف اندوز ہوئے ۔ اس کے بعد ہم واپس ہوٹل چلے گئے ۔ جہاں بھی میں نے لفظ ہم (We) استعمال کیا ہے ، اس سے مراد میں اور ایسٹرڈ گیبریلا (Astrid Gabriela) ہیں۔اگلے دن رضا ڈار کے ساتھ لاہور پہنچے ۔ ہم رضا ڈار کے کزن کے گھر اس کی آنٹی کی سالگرہ کے لیے گئے ۔ رضا نے اپنی آنٹی کے لیے ایک کیک خریدا تھا جس پر لکھا تھا: رضا اور اسٹیف (Steph) کی طرف سے ہیپی برتھ ڈے آنٹی شمیم ۔ہم اندر گئے ، تو وہاں کوئی دوسرا موجود نہیں تھا، نہ کوئی آنٹی تھی اور نہ ہی کوئی کزن۔ ٹی وی پر کچھ ہسپانوی موسیقی چل رہی تھی اور میز پر ڈرنکس رکھے ہوئے تھے ۔ پندرہ منٹ بعد، چار دیگر افراد بندوقوں اور رسیوں کے ساتھ غصے میں اندر داخل ہوئے اور انہوں نے میرے ہاتھ میری پشت پر باندھ دئیے ۔
وہ چلا رہے تھے اور مجھے اور ایسٹرڈ کو مار پیٹ رہے تھے ، اور رضا بھی ایک شکار (مظلوم) بننے کا ناٹک کر رہا تھا۔کچھ منٹ تک مار پیٹ کرنے کے بعد، انہوں نے کہا کہ انہیں پیسے چاہئیں۔ پہلے انہوں نے جس رقم کا مطالبہ کیا وہ دو لاکھ ڈالرز تھی۔ پھر سات لاکھ ڈالرز، اس کے بعد دس لاکھ ڈالرز۔ بعد ازاں پندرہ لاکھ اور آخری رقم بیس لاکھ ڈالرز تھی۔ میں نے کہا کہ میرے پاس انہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ لیکن وہ بضد رہا ورنہ وہ مجھے جان سے مار ڈالے گا اور میرے جسم کے اعضاء بیچ دے گا۔ وہ میرا تمام سامان لے گئے اور وہاں موجود تین آدمیوں کے پاس بندوقیں تھیں۔ ان کے پاس ایک رائفل تھی۔ رائفل والا شخص مسلسل مجھے چھو رہا تھا۔ رضا ڈار اور ایک دوسرا شخص، ہر کوئی باس کہہ کر پکار رہا تھا، وہاں موجود تھے ۔انہوں نے مجھ سے تاوان کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنے خاندان کو وائس نوٹ بھیجنے کو کہا اور میرا فون لے لیا۔ پہلے میں نے اپنے بھائی کو وائس نوٹ بھیجا۔ دوسرے نمبر پر، میں نے اپنے والدین کو وائس نوٹ بھیجا۔ ہم نے پہلے ہی سے ایک کوڈ ورڈ طے کر رکھا تھا کہ اگر میں کبھی خطرے میں ہوئی تو اسے استعمال کروں گی۔ میں نے وہ لفظ استعمال کیا، جو کہ CARLITOS تھا۔ اور انہوں نے فوراً پولیس کو فون کر دیا۔
اس کے بعد میں نے اپنے دوستوں کو بھی ان کے مخصوص کوڈ ورڈ کے ساتھ وائس نوٹس بھیجے ۔ اس طرح ہر ایک کو معلوم ہو گیا کہ میں اور ایسٹرڈ محفوظ نہیں ہیں۔ بارہ گھنٹوں تک میرے ہاتھ میری پشت پر بندھے رہے تھے ۔ رات کو ، رضا ڈار اور باس نے میرے فون کے ذریعے سترہ ہزار ڈالرز اپنے کرپٹو والٹ میں ٹرانسفر کر لیے ۔ 30 جون کی صبح 05:00 بجے ، رضا ڈار بیڈ روم میں آیا اور مجھے بتایا کہ وہ سرمایہ کار جن سے ہم گزشتہ 28 تاریخ کو ملے تھے ، میری کمپنی میں تیس لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گے ۔وہ یکم جولائی کو لاہور میں معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن وہ اس صبح رضا کو اس کاروبار میں اعتماد کے اظہار کے طور پر آٹھ لاکھ ڈالرز بھیجنے پر راضی ہو گئے ۔ رضا نے بتایا کہ اس نے یہ رقم باس کو دے دی ہے ۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے مزید سات لاکھ ڈالرز کا بندوبست کرنے کی ضرورت ہے ، اور مجھے اس کے لیے اپنے خاندان اور دوستوں سے اصرار کرنا چاہیے ۔ دوپہر کو کالے رنگ کے پاکستانی سوٹ میں ملبوس ایک شخص نے نازیبا حرکات کیں ۔
شام کو، رائفل والا شخص آئینے کا ایک ٹوٹا ہوا ٹکڑا لے کر آیا اور میرے اعضا کاٹنے کی دھمکی دی ۔اسی دوران، کالے سوٹ والا ایک شخص ایسٹرڈ کو اوپر لے گیا اور میں اس کے چلانے کی آواز سن سکتی تھی ۔تین گھنٹے بعد رضا واپس آیا، اس نے کہا کہ اس نے باس کو تمام رقم ادا کر دی ہے اور ہم جانے کے لیے آزاد ہیں۔ وہ ہماری الیکٹرانک اشیاء (فونز، کمپیوٹر وغیرہ) اور ہمارے زیورات کے سوا ہمارا سارا سامان گاڑی کے اندر لے گئے ۔رضا نے کہا کہ ہمیں تیزی سے نکلنا ہوگا اور اس نے میرا فون مجھے واپس کر دیا۔ میں نے اپنی ماں کو فون کیا اور کسی ایسی جگہ کے بارے میں پوچھا جہاں ہم محفوظ رہ سکیں۔ میری ماں نے اصرار کیا کہ ہم ایئرپورٹ جائیں۔ رضا کہہ رہا تھا کہ وہ ہمیں ایئرپورٹ کی طرف لے جا رہا ہے ، لیکن میں اپنے موبائل فون پر بھی راستے کی ٹریکنگ کر رہی تھی۔ ہم نے دیکھا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا؛ اس نے کہا کہ پولیس ہمارے لیے آ رہی ہے ، لیکن ہمیں اس پر بھروسہ نہیں تھا۔ اس نے کسی کو فون کیا اور کہا جی باس اور اسے اپنی لوکیشن (مقام) بھیج دی۔
ہم رضا سے گاڑی روکنے کی التجا کر رہے تھے تاکہ ہم باہر نکل سکیں، لیکن اس نے بات نہیں مانی۔پھر ہماری گاڑی سامنے والی کار سے ٹکرا گئی۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے رکا اور میں اور ایسٹرڈ فوراً گاڑی سے باہر کود گئیں اور چیختے ہوئے ایک مکینک کی دکان کے اندر بھاگے ۔ ہمیں ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے بچا لیا۔ اس نے صحیح (متعلقہ) لوگوں کو فون کیا۔ پولیس آ گئی اور ہم پولیس کی گاڑی کے اندر بیٹھ گئے اور چیخ چیخ کر ان سے التجا کرنے لگے کہ ہمیں ایئرپورٹ لے جائیں۔ اپنے صدمے کی وجہ سے ہمیں پولیس پر بھی بھروسہ نہیں ہو رہا تھا، حالانکہ وہ اچھے پولیس والے تھے ۔ انہوں نے ہمیں پرسکون کرنے کی کوشش کی اور ایئرپورٹ کی سمت میں گاڑی چلانے لگے ۔ایئرپورٹ کے قریب سڑک کے بیچوں بیچ انہوں نے گاڑی روکی تو میں اور ایسٹرڈ دوبارہ گاڑی سے باہر کود گئے ۔ لیکن اسی دوران ایک اور پولیس کار اپنے افسر کے ساتھ وہاں پہنچی اور انہوں نے ہمیں وہ شواہد دکھائے جن پر وہ گزشتہ دو دن سے ہمارے کیس پر کام کر رہے تھے ۔
انہوں نے ایک لیڈی پولیس اہلکار (خاتون افسر) کو بلایا تاکہ وہ ہمیں پرسکون کر سکے ۔ اس کے بعد وہ ہمیں پولیس اسٹیشن لے گئے جہاں انہوں نے ہمارے بیانات قلمبند کیے ۔ سپین کی 40سالہ آسٹریڈ گیبریلا رابنسن براچو نے بیان دیا : میری بھی وہی کہانی ہے جو اسٹیفنی نے بتائی، لیکن گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا۔ میرے ساتھ نازیبا حرکات کی گئیں ۔ رضا کے پاس کمپیوٹر تھا اور اس نے ہم سے پیسوں اور پاس ورڈ کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ میں نے پوچھا کیوں، تو بندوقوں والے افراد نے میرے سر پر بہت زور سے گھونسا مارا۔کالے لباس والے آدمی نے میرے ساتھ بار بار جنسی زیادتی کی ۔ ایک چھوٹے لڑکے نے بھی جنسی عمل کیا ۔
رضا پیسے مانگ رہا تھا لیکن اس لمحے جب میں نے وائس نوٹس بھیجے ، اس نے بینک اکاؤنٹ (نمبر) نہیں بھیجا۔ مجھے بینک اکاؤنٹ بھیجنے کے لیے اس کے سامنے گڑگڑانا پڑا۔ پھر ایک موقع پر وہ آیا اور ہم نے اسٹیفنی کی ماں کو فون کیا یہ پوچھنے کے لیے کہ انہوں نے کتنی رقم جمع کی ہے ۔ اور اسٹیفنی کی ماں نے بتایا کہ ایک لاکھ ڈالرز۔ وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔پھر باقی تمام آدمیوں نے کمرہ بند کر دیا، مجھے مکمل طور پر برہنہ کر دیا اور میرے نازک حصہ میں رائفل ڈال دی۔ اس کے بعد میں چلائی، روئی ۔آخری دن کالے لباس والے آدمی نے دوسری منزل کے بیڈ روم میں میرے ساتھ غیر فطری عمل کیا ۔رضا ڈار جب ہمیں باہر لیجا رہا تھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کچھ لوگوں کو لائیو لوکیشن بھیج رہا تھا۔ کال پر موجود وہ لوگ اس پر چلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ باس دوسری ہدایات دے رہا ہے ۔
گاڑی کی ٹکر پر ہم ایک مکینک کی دکان میں گئے جس کا نام فلٹر ہاؤس تھا۔ اور انہوں نے پولیس کو فون کرنے میں ہماری مدد کی۔ میں یہ ضرور کہوں گی کہ شروع میں ہم نے رضا ڈار پر بھروسہ کیا، کیونکہ ہم اس سے سنگاپور میں کرپٹو کرنسی کی ایک تقریب میں ملے تھے ۔ پھر اس نے اسٹیفنی کے ساتھ کاروبار کرنا شروع کیا، اس کے بعد وہ ہم سے ملنے کے لیے صرف ایک دن کے لیے سپین بھی آیا تھا ۔میں نے اس کے بارے میں مکمل چھان بین بھی کی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ وہ ایک وزیر علی ڈار کا بیٹا ہے ۔ میں نے علی ڈار کے انسٹاگرام پر فیملی والے حصے میں محمد رضا ڈار کی ایک تصویر بھی پائی جس میں وہ علی ڈار کو گلے لگا رہا تھا، اس کے علاوہ اس کے پہلے واٹس ایپ نمبر پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ بھی اس کی ایک تصویر لگی ہوئی تھی۔