سندھ طاس معاہدہ کے تحت پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ :عطا تارڑ

 سندھ طاس معاہدہ کے تحت پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ :عطا تارڑ

آبی حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم :دانیال ،یکطرفہ معاہدہ معطل نہیں ہوسکتا :ماہرین

اسلام آباد (اے پی پی)آبی ماہرین و حکومتی شخصیات نے کہا ہے کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی ) پاکستان کے آبی تحفظ کی بنیاد رہا ہے جس نے دریائے سندھ کے آبی نظام کی ترقی، زرعی پیداوار، پن بجلی کی پیداوار اور ملکی معاشی ترقی کے لئے پانی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنایا، یہ معاہدہ دنیا کے سب سے پائیدار بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے ، مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے ، ہائیڈرولوجیکل (آبی بہاؤ سے متعلق) ڈیٹا کی فراہمی روکنے اور بالائی علاقوں میں آبی ڈھانچے کی تعمیر تیز کرنے کے فیصلے نے پاکستان کے آبی انتظامی نظام میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے ، قانونی اور سفارتی پہلوؤں سے ہٹ کر خصوصاً دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار پر اثر انداز ہونے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت پاکستان کے پانی، خوراک، توانائی اور معیشت کے لئے ایک سنگین چیلنج بن رہی ہے ۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور یہ ملک کی زندگی کی علامت ہے جس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نہ قانونی حیثیت رکھتی ہے اور نہ ہی اخلاقی جواز بلکہ اس اقدام سے بھارت کو صرف عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ‘‘ون واٹر، ون وژن’’ اصول کی بھی خلاف ورزی ہے ۔واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے نے جنوبی ایشیا میں تذویراتی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ قانونی بحث سے قطع نظر بھارت کا یہ اقدام پاکستان کے لئے نہایت سنگین تذویراتی نتائج کا حامل ہے کیونکہ اس سے چھ دہائیوں پر محیط معاہداتی تعاون کا سلسلہ متاثر ہوا ہے اور ایسے دریائی نظام میں غیر یقینی پیدا ہوئی ہے جو پاکستان کے پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر کو مغربی دریاؤں سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم کرنا بھی بند کر دیا حالانکہ یہ معاہدے کی واضح ذمہ داری ہے ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا کہ پانی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ، سندھ طاس معاہدے سے متعلق موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری، شفافیت اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ اور اس اہم قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لئے پرعزم ہے ۔سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ چناب کے پانی کا مسلسل اور قابلِ پیش گوئی بہاؤ سندھ طاس آبپاشی نظام کے استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔

رکن پنجاب اسمبلی فرح خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ موجود ہونے کے باوجود بھارت لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، پانی کوئی ہتھیار نہیں بلکہ مشترکہ زندگی کی علامت ہے ۔جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مائیکل کوگیل مین نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کوئی بھی ملک اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ ماسکو میں یو ڈبلیو سی کے سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ آج بھی مکمل طور پر مؤثر اور قانونی طور پر نافذ العمل ہے ۔ ان کے مطابق اگر معاہدے کی یکطرفہ معطلی جاری رہی تو اس کے پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور انسانی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی ایسوسی ایشن برائے واٹر لا کے صدر گیبریل ایکسٹین نے ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں