گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا ٹرائل کورٹ کی آئینی ذمہ داری : سپریم کورٹ

گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا ٹرائل کورٹ کی آئینی ذمہ داری : سپریم کورٹ

بیان مکمل ہونے پرپڑھ کر سنانا اورضرورت پڑنے پراسکی تصحیح لازمی ہے ،درست قلمبندنہ ہونے پراعتراض گواہ کاحق منصفانہ ٹرائل کا یہی تقاضاہے :فوجداری درخواستوں پرفیصلہ،سندھ ہائیکورٹ اورٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم

 اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا اور اس میں موجود غلطیوں کی بروقت تصحیح کرنا ٹرائل کورٹ کی قانونی ذمہ داری ہے کیونکہ منصفانہ ٹرائل اور شفاف عدالتی کارروائی کا تقاضا یہی ہے۔ عدالت نے کہا یہ طریقہ کار انصاف کے حصول کا ذریعہ ہے ، انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین  پنہور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسما نایاب کی جانب سے دائر فوجداری درخواستوں پر مختصر فیصلے کی وجوہات جاری کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمہ میں درخواست گزار استغاثہ کی گواہ ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا تاہم مصدقہ نقل حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ تحریری بیان میں متعدد غلطیاں اور تضادات ہیں جس پردرخواست گزار نے ٹرائل کورٹ سے بیان کی تصحیح کی درخواست کی تاہم وہ مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے بھی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی ،جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے گواہ کے بیان کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی اور فریقین کے وکلا اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی موجودگی میں اس کا جائزہ لیا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ویڈیو میں گواہ نے واقعے کی تاریخ 31 مئی 2018 بتائی تھی، مگر تحریری بیان میں اسے غلطی سے 30 مئی 2018 لکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 360(1)کے تحت گواہ کا بیان مکمل ہونے کے بعد اسے پڑھ کر سنانا اور ضرورت پڑنے پر اس کی تصحیح کرنا لازمی ہے جبکہ دفعہ 360(2)گواہ کو یہ حق دیتی ہے کہ اگر اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہ کیا گیا ہو تو وہ اعتراض اٹھا سکے ، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ گواہ کے ویڈیو بیان اور تحریری بیان کا ملزمان، فریقین کے وکلا اور پراسیکیوٹر کی موجودگی میں دوبارہ موازنہ کرے ۔ اگر کسی قسم کا تضاد، غلطی یا کمی سامنے آئے تو دفعہ 360(2)کے مطابق درست بیان پر مبنی میمورنڈم تیار کرکے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں