علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین ،6روزہ عوامی سوگ ختم

علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین ،6روزہ عوامی سوگ ختم

آخری روز بھی لاکھوں افراد کی شرکت، جسد خاکی روضہ اما م رضا تک پہنچایا گیا حملوں میں ریل سروس معطل ہونے پر مسافرٹرینیں چھوڑ کر بسوں پر مشہد گئے

تہران (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کے ساتھ ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ شہروں میں جاری چھ روزہ عوامی سوگ کی تقریبات اختتام پذیر ہو گئیں۔ ان دنوں میں منعقد ہونے والی جنازہ اور تعزیتی تقریبات مذہبی اور سیاسی علامتوں سے بھرپور رہیں۔سوگ کے آخری روز بھی لاکھوں سوگوار سڑکوں پر نکل آئے اور جلوس علی خامنہ ای، ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد اور تقریباً ڈیڑھ سال کی نواسی زہرا محمدی کے تابوتوں کو لے کر ایران کے مقدس ترین شہر مشہد میں واقع امام رضا کے روضے کی جانب بڑھا، جو سنہری گنبد کے باعث خاص شہرت رکھتا ہے اور آیت اللہ خامنہ ای کی جائے پیدائش بھی ہے ۔بدھ اور جمعرات کو امریکی حملوں کی وجہ سے تہران سے مشہد جانے والی ریل سروس متاثر ہونے کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے سفر کرنے والے بہت سے مسافروں کو ٹرینوں سے اتار کر بسوں کے ذریعے مشہد روانہ کیا گیا۔تقریبات میں شریک ہونے والے ان کے حامیوں اور مذہبی پیروکاروں نے ایرانی پرچم، تصاویر اور انتقام کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔اس سے قبل علی خامنہ ای کی میت کو کربلا میں حضرت علی ؓ، حضرت عباس ؓ اور حضرت امام حسین ؓ کے روضوں پر لے جایا گیا، نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ گورنر آفس کے مطابق جلوسِ جنازہ میں 70 لاکھ سے زائد سوگواروں نے شرکت کی۔تاہم اس دوران آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے اور نامزد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ، اطلاعات کے مطابق وہ ان امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شدید زخمی ہوئے تھے جن میں ان کے والد شہیدہوئے تھے ۔بی بی سی کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے نشر کیے جانے والے مناظر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفی خامنہ ای نے پڑھائی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں