یورپ جانے کا نیا راستہ، آذربائیجان جا کر ہر چھٹا پاکستانی غائب

 یورپ جانے کا نیا راستہ، آذربائیجان جا کر ہر چھٹا پاکستانی غائب

5ماہ میں اڑھائی ہزارپاکستانی واپس نہیں آئے ،عدم واپسی کی شرح بڑھنے لگی 3 برسوں میں 1لاکھ 6ہزار 634پاکستانی آذربائیجان پہنچے ،7721غائب

اسلام آباد (عادل تنولی )اسلام آباد سے انسانی سمگلنگ اور ڈنکی مافیا کا ایک نیا اور خطرناک روٹ بے نقاب ہو گیا ۔ خوبصورت سیاحتی ملک آذربائیجان اب غیر قانونی طور پر یورپ جانے والوں کا نیا راستہ بن چکا ہے ۔ گزشتہ تین برسوں میں ایک لاکھ 6 ہزار 634 پاکستانی آذربائیجان پہنچے ہیں ۔ وزٹ اور ٹورسٹ ویزا پر جانے والے ہزاروں پاکستانی وہاں پہنچ کر غائب ہو رہے ہیں جن کی منزل دراصل غیر قانونی طریقے سے یورپ ہے ۔ وزارت داخلہ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، گزشتہ 3 برسوں کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 6 ہزار 634 پاکستانی آذربائیجان گئے لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے 7 ہزار 721 افراد کی واپسی کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ۔

ان غائب ہونے والے مسافروں میں 5 ہزار 447 افراد صرف ٹورسٹ اور وزٹ ویزا ہولڈرز تھے یعنی سب سے زیادہ عدم واپسی وزٹ ویزا پر جانے والوں کی ہے ۔ دستاویز کے مطابق اگر سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو سال 2024 میں 2 ہزار 676 اور سال 2025 میں 2 ہزار 495 افراد واپس نہیں آئے ۔ لیکن موجودہ سال یعنی 2026 میں اس شرح نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ 2026 کے صرف ابتدائی 5 ماہ کے اندر ہی 2 ہزار 550 پاکستانی آذربائیجان جا کر غائب ہو چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ رواں سال عدم واپسی کی یہ شرح ریکارڈ 17.96 فیصد تک جا پہنچی ہے ، اس وقت آذربائیجان جانے والا ہر چھٹا مسافر واپس نہیں آ رہا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں