سیاسی و عسکری قیادت کا دورہ کوئٹہ بلوچستان بارے یکجہتی کا مظہر

سیاسی و عسکری قیادت کا دورہ کوئٹہ بلوچستان بارے یکجہتی کا مظہر

صوبے کا مسئلہ صرف سکیورٹی نہیں ، سیاسی، معاشی اور انتظامی بھی ہے

(تجزیہ:سلمان غنی)

بلوچستان کے مختلف مقامات پر دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ کوئٹہ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ، ایک ہی وقت میں سیاسی و عسکری قیادت کی کوئٹہ اور امن و امان کے حوالہ سے وہاں اجلاس میں موجودگی پیغام دیتی ہے کہ حکومت اور عسکری ادارے دہشت گردی کے خلاف ایک صفحے پر ہیں ،بلوچستان کی صورتحال کے حوالہ سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف طاقت اور قوت سے ہی دہشت گردی کا سدباب ممکن ہو گا یا سیاسی اقدامات کی بھی ضرورت ہے اور یہ کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو کس کس طرح کی معاونت حاصل ہے اور سدباب کیسے ممکن ہے۔

سیاسی امور کے ماہرین کی دیرینہ رائے ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور انتظامی بھی ہے لیکن اس وقت بلوچستان کی ابتر صورتحال میں سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا ، یہاں کی مقامی قیادت قبائلی عمائدین کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا جہاں تک نوجوانوں میں پیدا شدہ لابی کا سوال ہے تو یہ ایک منظم سلسلہ کا شاخسانہ ہے جس میں بعض غیر ملکی قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت یہاں قوم پرست تنظیموں خصوصاً بی ایل اے بی ایل پی اور دیگر کو ساتھ ملا رکھا ہے ،بلوچستان حکومت سدباب اور تحفظات کے ازالہ کیلئے کیا کر رہی ہے یہ نظر نہیں آ رہا تاہم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں نے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔

ان کو دشمن ملک بھارت اور افغانستان کی کھلی سپورٹ حاصل ہے ان کے پاس جدید اسلحہ اور لامحدود فنڈنگ بھی ہے چونکہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور گوادر بندرگاہ سی پیک منصوبوں نے اس کی اہمیت اور بڑھا دی ، لہٰذا دشمن کی دہشت گردی اور تخریب کاری کا مقصد ہی یہی ہے کہ پاکستان معاشی حوالہ سے توانا نہ ہو ،یہاں کے دشوار گزار سرحدی علاقے بعض مسلح گروہوں کی نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں اور یہاں کے لوگ اپنے مسائل کے باعث سکیورٹی اداروں کے اس طرح معاون نہیں بن پاتے جیسے بننا چاہیے ، لہذا دہشت گردی کا مقابلہ صرف فوجی کارروائی سے نہیں ہو سکتا لہذا پہلی دفعہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بلوچستان میں یقینی امن اور دہشت گردی کے سدباب کیلئے ایسے اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں جن کے جلد نتائج سامنے آئیں ۔ ماہرین کی رائے یہی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا دیرپا حل سیاسی مکالمے ، باہمی اعتماد اور وسیع تر اتفاق رائے میں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں