امریکا ایران ٹکرائو ٹھہرائو میں بدلنے کی کوششیں شروع ہو گئیں

امریکا ایران ٹکرائو ٹھہرائو میں بدلنے کی کوششیں شروع ہو گئیں

اسرائیل معاہدہ ناکام بنانے کیلئے کوشاں،مذاکرات پاکستان کے مفاد میں ہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

ایک جانب جہاں امریکا اور ایران کے درمیان پھر سے ٹکراؤ اور تناؤ کے عمل نے علاقائی اور عالمی محاذ پر تشویش کی لہر دوڑا رکھی ہے تو دوسری جانب پھر سے پاکستان اور قطر سمیت بعض علاقائی ثالثوں نے ٹکراؤ کو ٹھہراؤ میں تبدیل کرنے کیلئے کوشش شروع کر رکھی ہیں ،نئی پیدا شدہ صورتحال جو پہلے ہی تشویشناک تھی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے ،خدشہ یہ ہے کہ 18جون کو طے پانے والا معاہدہ کہیں ناکام نہ ہو جائے اور اس خدشہ کو مزید تقویت اسرائیل کے طرز عمل سے پہنچ رہی ہے جو اس معاہدہ کو ناکام بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور دوسری طرف ایران میں بھی ایسے انتہا پسند سرگرم عمل ہیں، لہٰذا بڑا سوال یہی ہے کہ پاکستان قطر و ثالثوں کی کوششیں کارگر ہو سکیں گی؟، جہاں تک یہ سوال ہے کہ مفاہمتی عمل میں رکاوٹ کیونکر آئی اور ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ کیونکر شروع ہوا توا س کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ہے اور اس مسئلہ پر لڑائی نے پائیدار امن کے امکانات کو بہت کم کر دیا ہے ،اب نئی پیدا شدہ صورتحال پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقصد 60دن کی دی ہوئی مدت میں پورا نہیں ہو سکتا،امریکا کا دعویٰ ہے۔

کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے کمرشل جہازوں کی آزادانہ پیش رفت میں خلل ڈال رہا ہے ،ایران کا مؤقف ہے کہ جس ایم او یو پر صدر ٹرمپ نے دستخط کئے ہیں اس کے تحت 18جوان کے بعد 60دن کیلئے آبنائے ہرمز سے بحفاظت کمرشل بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو گزارنے کی ذمہ داری ایران پر ہے ، اس شق کے تحت ایران نے جہازوں کی آمد و رفت کیلئے ایک سمندری حدود میں راستہ متعین کر رکھا ہے اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے متبادل راستوں کا استعمال ایم او یو کی خلاف ورزی ہے ،اب پھر سے جنگ بندی کیلئے پس پردہ رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے ،یہ رابطے نتیجہ خیز ہوں گے ، ان کی کامیابی کی ضمانت تو نہیں دی جا سکتی لیکن ان رابطوں کی کامیابی کے امکانات اس صورت ممکن ہیں کہ فریقین کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز برتنا چاہتے ہوں ،محدود مگر قابل عمل عملی اقدامات پر اتفاق ہو جائے ، زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بڑی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ امریکا، ایران میں بداعتمادی قائم ہے اور اپنے اندرونی دباؤ کے باعث حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہی ہیں، خلیجی ریاستوں کی تشویش ہے کہ لڑائی پھیلتی ہے تو پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا ،اگر امریکا یہ سمجھے کہ اس کے مفادات یا اتحادیوں کو مسلسل خطرہ لاحق ہے تو وہ فوجی دباؤ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے اور اگر پاکستان، قطر، عمان یا دیگر ثالث بیک چینل رابطے مؤثر ثابت ہوں تو دونوں فریق کشیدگی کم کرنے کیلئے لامحدود اقدامات پر متفق ہو سکتے ہیں،امریکا اور ایران جیسے تنازعات میں بالآخر سفارتکاری ناگزیر ہو جاتی ہے کیونکہ مسلسل تصادم کسی بھی فریق کیلئے پائیدار حل نہیں ہوتا،پاکستان سمیت خطے کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ امریکا، ایران مذاکرات کی طرف آئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں