جاپان :شاہی جانشینی کا بحران ، نیا قانون منظور

 جاپان :شاہی جانشینی کا بحران ، نیا قانون منظور

شاہی خاندان میں صرف ایک نوجوان مرد وارث باقی،1947 کا قانون تبدیل شاہی خاندان 15 سال سے زائد کے دور کے مرد رشتہ داروں کو اپنا حصہ بنا سکے گا

ٹوکیو (اے ایف پی) جاپان کے ایوانِ زیریں نے جمعہ کے روز ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کا مقصد شاہی خاندان میں جانشینی کے سنگین بحران کو حل کرنا ہے ۔ یاد رہے  کہ جاپان میں صرف مردوں کی جانشینی کے سخت قانون کی وجہ سے ، شاہی خاندان کے سکڑنے کے بعد اب صرف ایک نوجوان وارث باقی بچا ہے ۔جاپانی شاہی خاندان کا مستقبل اس وقت موجودہ شہنشاہ ناروہیٹو کے 19 سالہ بھتیجے شہزادہ ہیساہیتو پر منحصر ہے ، اور اگر ان کے ہاں بیٹا پیدا نہیں ہوتا تو صدیوں پرانی جانشینی کا یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔جاپان کا 'امپیریل ہاؤس ہولڈ لاء'، جو 1947 سے نافذ العمل ہے ، خواتین کو تختِ شاہی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ترمیم کے بعد شاہی خاندان کو اجازت ہوگی کہ وہ 15 سال سے زائد عمر کے دور کے مرد رشتہ داروں کو اپنا حصہ بنا سکے ۔ اس کے علاوہ، شاہی خاندان کی خواتین کو خاندان سے باہر کسی عام شہری سے شادی کے بعد بھی اپنا شاہی درجہ برقرار رکھنے کی اجازت مل جائے گی۔ جاپانی شاہی خاندان میں اس وقت کل 16 ارکان باقی رہ گئے ہیں، جن میں صرف 5 مرد شامل ہیں۔ ان میں 92 سالہ ریٹائرڈ شہنشاہ اکیہیٹو، ان کے 90 سالہ بھائی، موجودہ 66 سالہ شہنشاہ، ان کے بھائی اور نوجوان شہزادہ ہیساہیتو شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں