ایک شخص کی ضد نے 40خاندانوں کو بے گھر کر دیا،نسلہ ٹاورمتاثرین
5 برس گزرنے کے باوجودمعاوضے سے محروم ،گھروں کی واپسی یقینی بنائی جائے
کراچی (سٹاف رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات واپس لیے جانے کے بعد نسلہ ٹاور کے متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت کو اسی مقام پر ازسرنو تعمیر کیا جائے ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ نسلہ ٹاور کی مسماری کو پانچ برس گزرنے کے باوجود وہ آج تک معاوضے سے محروم ہیں اور انہیں اپنے گھروں کی واپسی یقینی بنائی جائے ۔ نسلہ ٹاور کے مکین عبدالقادر نے کہا کہ تمام متعلقہ این او سیز موجود ہونے کے باوجود چالیس خاندان تباہ ہو گئے اور آج تک انصاف کے منتظر ہیں۔ متاثرین میں شامل پروفیسر سنتوش نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی معاونت کی گئی، اسی طرح نسلہ ٹاور کے متاثرین کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے ۔ نسلہ ٹاور میں چار فلیٹس کے مالک محمد علی نے کہا کہ اگر مکینوں کو پہلے معاوضہ ادا کرکے عمارت گرانے کا فیصلہ کیا جاتا تو کم از کم کوئی خاندان بے گھر نہ ہوتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ متاثرین کے نقصان کی تلافی کون کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص کی ضد نے چالیس خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پلاٹ فروخت کرکے معاوضے کی ادائیگی کے فیصلے پر بھی تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد حکومت ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرے اور نسلہ ٹاور کی اسی مقام پر ازسرنو تعمیر یا مناسب متبادل فراہم کرکے برسوں سے جاری بے یقینی کا خاتمہ کیا جائے ۔