بھارت نے پا نی کنٹرول کیا تو محدود جنگ کرسکتے ہیں:چیئر مین واپڈا

بھارت نے پا نی کنٹرول کیا تو محدود جنگ کرسکتے ہیں:چیئر مین واپڈا

پاکستان کا 84 فیصد پانی صرف 4 ماہ میں آتا ہے ،پانی کی بوند بوند کو سٹور کرنا ہو گا داسو اور مہمند ڈیم کو جلدی مکمل کرنا ہو گا:محمد سعید، ٹونائٹ ود ثمرعباس میں گفتگو

لاہور (دنیا نیوز)چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد سعید نے کہا ہے کہ اگر بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو  یہ سنگین صورتحال ہوگی اور پاکستان محدود جنگ کے آپشن پر بھی غور کر سکتا ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’ٹونائٹ ود ثمر عباس‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ داسو اور مہمند ڈیم سمیت دیگر منصوبوں کو جلد مکمل کرنا ہوگا، پاکستان کا 84 فیصد پانی صرف چار ماہ میں آتا ہے ، اس لئے پانی کی ایک ایک بوند ذخیرہ کرنے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے ۔ پاکستان میں پانی کے مسئلے کو صرف سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ دستیاب آبی وسائل، موجودہ ضروریات اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی آبی انتظام کے تناظر میں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ تربیلا ڈیم 1976 میں مکمل ہوا تھا اور اس وقت پاکستان کی بڑے آبی ذخائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 23.5 ملین ایکڑ فٹ تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 13 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے ۔ دنیا بھر میں ڈیموں کی ایک عمر ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ان میں مٹی جمع ہونے سے ان کی گنجائش کم ہوتی جاتی ہے ۔ اس وقت ورسک ڈیم تقریباً مکمل طور پر سلٹ سے بھر چکا ہے ، چشمہ ڈیم 57 فیصد اور تربیلا ڈیم 42 فیصد مٹی سے بھر چکے ہیں، جبکہ منگلا ڈیم کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے ۔ان کا کہناتھاکہ گزشتہ 50 برسوں میں آبادی، گھریلو، زرعی اور صنعتی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا مگر اس تناسب سے نئے بڑے آبی ذخائر تعمیر نہیں کئے جا سکے ۔ 2050 تک پاکستان کی آبی ضروریات مزید بڑھ جائیں گی، اس لئے بڑے ذخائر کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنا ناگزیر ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں