ملک میں بچوں سے جبری مشقت کرائی جا رہی:آئینی عدالت

ملک میں بچوں سے جبری مشقت کرائی جا رہی:آئینی عدالت

حکومت بتائے کتنے بچے بھیک مانگتے اورکتنے مزدوری کرتے ہیں،جسٹس حسن اظہر نابالغ کے حقوق کاتحفظ عدالتی ذمہ داری،غیرجانبدارسرپرست کی تقرری لازمی قرار

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے بچوں کے اغوا، بھیک منگوانے ، چائلڈ لیبر اور ان کے تحفظ سے متعلق کیس میں وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بچوں سے متعلق جامع ڈیٹا پیش کیا جائے ، تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کتنے بچے بھیک مانگتے اور کتنے بچے مزدوری کرتے ہیں، اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا ملک میں بچوں سے جبری مشقت کرائی جا رہی ہے اور آٹھ سے دس سال عمر کے بچے سرعام مزدوری کرتے نظر آتے ہیں ،بچوں سے بھیک منگوانے والے ٹھیکیدار پیسے کماتے ہیں، تاہم عدالت یہ نہیں کہہ رہی کہ ان بچوں کو پکڑ لیا جائے ۔ حکومت کو ایسے بچوں کے لیے شیلٹر ہوم قائم کرنے چاہئیں، جہاں انہیں تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ مختلف ہنر بھی سکھائے جائیں تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔

مزید سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ وفاقی آئینی عدالت نے نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ کو عدالت کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کسی بھی مقدمے میں کم عمر فریق کی موجودگی کی صورت میں غیر جانبدار سرپرست کی تقرری اور عدالت کی مکمل جانچ پڑتال کے بغیر کوئی فیصلہ یا سمجھوتہ موثر نہیں ہوگا۔وفاقی آئینی عدالت نے نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ہر ایسے مقدمے میں، جس میں کوئی فریق نابالغ ہو، غیر جانبدار سرپرست کی تقرری لازمی ہوگی، جبکہ نابالغ بچوں، ضعیف افراد اور پردہ نشین خواتین سے متعلق مقدمات میں ہونے والا ہر سمجھوتہ عدالتی جانچ پڑتال سے مشروط ہوگا۔عدالت نے فیصلے میں ہدایت کی کہ کسی بھی سول یا ریونیو مقدمے کے آغاز پر سب سے پہلے یہ تعین کیا جائے کہ آیا کوئی فریق نابالغ ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہو تو اس کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنائے بغیر مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

نابالغ کے لیے ایسا سرپرست مقرر کیا جائے جس کا مقدمے میں کوئی ذاتی مفاد نہ ہو، تاکہ کم عمر فریق کے مفادات کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ نابالغ سے متعلق جائیداد کے تنازعات میں غیر ضروری عجلت سے گریز کیا جائے اور ہر مرحلے پر بچے کے بہترین مفاد کو مقدم رکھا جائے ،عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو قانون کے مطابق مقدمے کی کارروائی دوبارہ چلانے کی ہدایت کی۔ مزیدبرآں چیف جسٹس امین الدین خان اورجسٹس سیدارشدحسین شاہ پرمشتمل وفاقی آئینی عدالت کے دورکنی بینچ نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں اور قانون گوؤں کو سب رجسٹرار کا اضافی چارج دینے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ سب رجسٹرار کی اسامیوں پر تقرری صرف متعلقہ سروس رولز کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے اور قواعد کے برعکس کسی دوسرے کیڈر کے افسران کو یہ ذمہ داریاں سونپنا غیر قانونی ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...