قائمہ کمیٹی خزانہ نے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹ بل2026 کی منظوری دیدی

 قائمہ کمیٹی خزانہ نے نیٹنگ  آف فنانشل ارینجمنٹ بل2026 کی منظوری دیدی

قانون لاگوہونے کے بعدقرضوں کی سیٹلمنٹ سے متعلق معاہدے اور فریقین بقا یاجات ایڈجسٹ کر سکیں گے رواں مالی سال بی آئی ایس پی ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ سے ہونگی ، اسامیوں کی تعداد کم ہوجائے گی :وزیرخزانہ

اسلام آباد(مدثرعلی رانا،سید قیصر شاہ) سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ اجلاس سے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹ بل 2026کی منظوری دے دی، وزیرخزا نہ محمداورنگزیب نے کہا رواں  مالی سال بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ہونگی ، روایتی طریقہ کار ختم کر دیا جائے گا ، ڈپٹی گورنر مرکزی بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر اور بینکوں کے درمیان معاہدے میں نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 لاگو ہو گا ،قانون کے تحت قرضوں کی سیٹلمنٹ سے متعلق معاہدے کیے جا سکیں گے ، نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس حکومتی بل سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے کمیٹی میں پیش کیا ، دونوں فریقین کے درمیان قرض لین دین معاہدہ ہونے پر نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس ایکٹ لگے گا، ایکٹ لاگو ہونے سے قرض وصولی کے وقت فریقین ایک دوسرے کے بقاجات ایڈجسٹ کر سکیں گے ۔

سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 پر بریفنگ کے دوران نمائندہ بینکنگ ایسوسی ایشن نے کہا بینکوں نے ہی سٹیٹ بینک کو اس قانون کی تیاری کی تجویز دی تھی، مالیاتی ادارے اور صارفین دیوالیہ ہونے کی صورت میں نیٹ بیسز پر ادائیگی کریں گے ، قانون نہ ہونے کے باعث بینک عالمی بینکوں کے ساتھ زیادہ ٹرانزیکشنز نہیں کر سکتے ۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا حکومتی بل پر بینکوں کو کوئی تحفظات ہیں تو کمیٹی کو آگاہ کریں۔ ڈپٹی گورنر مرکزی بینک نے بتایا قانون بہت تکنیکی تھا ، بنانے میں زیادہ وقت لگا جو کہ شراکت داروں کیساتھ مشاورت سے بنایا۔ وزیر خزانہ سینیٹرمحمد اورنگزیب نے فورم کو آگاہ کیا کہ قانون پر وسیع تر مشاورت کی گئی ، اس کی منظوری خوش آئند ہے ۔

سینیٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے اے جی پی آر کے اعتراضات پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایات جاری کیں کہ اے جی پی آر کو ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں، ہدایت نہ مانی گئی تو تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ کمیٹی ممبران نے کہا سینیٹ آئین کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے ، اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کسی ادارے کے ماتحت نہیں آتا ، ایسے تو کل کو سینیٹ ملازمین کو کوئی فائدہ دیا تو پھر چیلنج ہوجائے گا۔ اے جی پی آر حکام نے کہا کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا قانونی ایڈوائس دیکھ لیتے ہیں ، جس چیئرمین کمیٹی نے کہا ہم اس ایڈوائس کو تسلیم نہیں کر سکتے ، ایک ہفتے میں ملازمین کو پے نہیں کرتے تو معاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیج دیں گے ، پھر اے جی پی آر انہیں بتا ئے ۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں منظور شدہ اسامیوں پر تقرری نہ ہونے کا معاملہ وزارت خزانہ اور بی آئی ایس پی انتظامیہ کے درمیان اختلاف کا باعث بن گیا ، اجلاس کے دوران سیکرٹری بی آئی ایس پی نے کمیٹی کو بتایا منظور شدہ اسامیوں پر بھرتیوں کا مسئلہ اس صورت میں حل ہو سکتا ہے اگر وزارت خزانہ کی اخراجات میں کفایت شعاری کمیٹی اپنے اجلاس کے ایجنڈے میں بی آئی ایس پی کی اسامیوں کا معاملہ شامل کرے تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مذکورہ کمیٹی کا اجلاس طویل عرصے سے منعقد ہی نہیں ہو سکا، جس کے باعث یہ معاملہ التوا کا شکار ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس میں کہا حکومت بی آئی ایس پی کی مالی امداد کی ادائیگی کو مرحلہ وار ڈیجیٹل والٹ نظام پر منتقل کر رہی ہے ، جس کے بعد انسانی وسائل میں اضافے کے بجائے ادارے میں موجود اسامیوں کی تعداد کم کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ، جدید ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی اور خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے گی ۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے وزیر خزانہ کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ادارہ انتظامی سطح پر شدید مشکلات کا شکار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں ملازمین مختلف وزارتوں سے ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے ہیں ، جب ان ملازمین کو تربیت دی جاتی ہے تو وہ اپنے اصل محکموں میں واپس چلے جاتے ہیں، جس سے ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ، بی آئی ایس پی کی امدادی رقوم کی تقسیم بینکوں کی ذمہ داری ہے اور اس کا ادارے کے مستقل انسانی وسائل سے کوئی تعلق نہیں ۔ بی آئی ایس پی حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا ادارے کے ملازمین کی مجموعی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 640 افراد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب بی آئی ایس پی پروگرام کا حجم دوگنا ہو چکا ہے اور موجودہ مالی سال میں اس کا بجٹ 838 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ، پروگرام کے مسلسل پھیلاؤ کے باوجود افرادی قوت میں کمی انتظامی امور کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...