پٹرول5.44،ڈیزل،31.05روپے لٹر مہنگا:روزانہ قیمتیں مقرر کی جائینگی وفاقی حکومت
پٹرول کی نئی قیمت بڑھ کر 316 روپے 15 پیسے ،ڈیزل کی 354 روپے 35 پیسے فی لٹر ہوگئی ،قیمتوں میں 3روز کے لئے اضافہ، اطلاق آج سے 20 جولائی تک ہوگا،نوٹیفکیشن جاری پندرہ روزہ نظام ختم ،قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا کو دیدیا،قیمتیں ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی: وزیر پٹرولیم،ہمیں اب الیکٹرک بائیکس ، گاڑیوں کی طرف جانا ہوگا،وزیر اطلاعات
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے 3روز کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے ،وزارت پٹرولیم کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے ،اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے لٹر ہو گئی ، ڈیزل کی قیمت 31 روپے 5 پیسے لٹر بڑھا دی گئی ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے ،پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے جو 20 جولائی تک نافذ رہے گا۔
اسلام آباد (نامہ نگار،اے پی پی ،دنیا نیوز) وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ پندرہ روزہ نظام ختم کر کے اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے اور اس شعبے کو بتدریج ‘ڈی ریگولیٹ’ (سرکاری کنٹرول سے آزاد) کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب قیمتوں کا تعین حکومت نہیں کرے گی، اس حوالے سے اوگرا کو ذمہ داری دیدی گئی ہے ، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور قیمتیں ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی ،انہوں نے بتایا کہ اوگرا آزادانہ طور پر عالمی منڈی کے حساب سے اب روز مرہ کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے گی اور جیسے ہی عالمی منڈی میں کمی ہوگی تو قیمتیں کم ہونگی جبکہ بڑھنے پریومیہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو مضبوط کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا تاکہ شفافیت برقرار رہے ، علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت اپنے اس وعدے پر آج بھی قائم ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا،انہوں نے لیوی کے حوالے سے جاری بحث پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام پر بین الاقوامی معاہدوں سے بڑھ کر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا،27 اور 28 فروری کو نافذ لیوی اور کاربن سپورٹ کی سطح کے مقابلے میں موجودہ بوجھ اس سے کم ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام سات ورکنگ دنوں کے اوسط بین الاقوامی نرخوں کی بنیاد پر کام کرے گا۔
جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے یا کمی کا اثر بروقت مقامی مارکیٹ تک منتقل ہو سکے گا اور اس حوالے سے حکومتی سطح پر بار بار اعلانات کی ضرورت بھی نہیں رہے گی،وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، توانائی کی قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے خطے کی صورتحال میں بہتری کے لیے کامیاب کوششیں کیں اور عوام نے بھی مشکل وقت میں تحمل کا مظاہرہ کیا، وفاق نے پٹرولیم قیمتوں پر سبسڈی کے لیے 130 ارب روپے خرچ کئے ہیں، سبسڈی کا پروگرام آج بھی جاری ہے ، عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا،انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے ، وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے میری سربراہی میں اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی قائم کی ہے ،وزیر پٹرولیم نے مزید کہا کہ ملک میں مقامی طور پر تیل اور گیس کی تلاش بڑھانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں،ترکش پٹرولیم 20 سال کے بعد سمندر کے اندر تیل اور گیس کی تلاش کے لیے رواں سال اکتوبر میں اپنا جہاز پاکستان لا رہی ہے جبکہ ریفائنریز کو اپ گریڈ کر کے خام تیل کے استعمال سے عالمی منڈیوں کی مسابقتی قیمت پر عوام کو تیل کی فراہم کرنے پر کام جاری ہے ، وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ کمرشل بانڈڈ سکیم کے تحت سعودی آرامکو، کویت پٹرولیم، قطر انرجی، امریکی اور چینی کمپنیوں سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے تاکہ وہ اپنے تیل کے ذخائر پاکستان میں رکھ سکیں اور ہنگامی یا جنگی صورتحال میں حکومت کو ان ذخائر سے خریداری کا حق حاصل ہو۔
اس حوالے سے سمری آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی ،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے ) کے معاملے پر بھی کام کر رہی ہے جبکہ ریفائنریز کو اپ گریڈ کر کے خام تیل کے استعمال اور عالمی منڈی کی مسابقتی قیمتوں پر عوام کو تیل کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں،اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خطے اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی منڈیوں میں بحران نظر آ رہا ہے اور اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے ،انہوں نے کہا کہ جب کشیدگی عروج پر تھی تو پوری دنیا میں تیل کی کمی تھی، تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کر کے پاکستان میں اضافی ذخائر کا بندوبست کیا،وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی ان کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ۔عطا تارڑ نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے ، کسی کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ہمیں اب الیکٹرک بائیکس اور گاڑیوں کی طرف جانا ہوگا، مزید کہا کہ اس موقع پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اگر کسی کو سیر حاصل گفتگو کرنی ہے تو پھر وہ بیٹھے اور تجاویز دے ۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو روزانہ کی بنیاد پر لانے سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات بروقت عوام تک منتقل ہوں گے ، اس نظام سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور پرائسنگ فارمولا سب کے سامنے ہوگا،وزیر اطلاعات نے کہا کہ بعض اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر آج قیمت میں کمی ہوئی ہے تو اس کا فائدہ فوری طور پر عوام کو کیوں منتقل نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لئے ایک ہفتے کی اوسط قیمت کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments