سزایافتہ شخص سرنڈرنہ کرے تو اپیل مستردہوگی:سپریم کورٹ
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ میں اپیل سے قبل سزا یافتہ شخص کا سرنڈر کرنا لازمی، شرط پوری نہ ہونے پر اپیل مسترد۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے۔
کہ سزا یافتہ شخص کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے قبل خود کو قانون کے حوالے (سرنڈر)کرنا لازمی قانونی تقاضا ہے اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں اپیل قابلِ سماعت نہیں رہتی۔ جاری تحریری حکم کے مطابق عدالت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت سزا پانے والے زین العابدین عرف زین کی فوجداری متفرق اپیل رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے مسترد کر دی۔عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 میں بھی اس قانونی تقاضے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے عدنان کیس میں طے کیا گیا اصول موجودہ مقدمے پر بھی مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ درخواستگزار نے سرنڈر کی لازمی شرط پوری نہیں کی، اس لیے رجسٹرار آفس کا اعتراض قانون کے مطابق ہے اور فوجداری متفرق اپیل ناقابلِ سماعت ہونے کے باعث مسترد کی جاتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments