جاپانی پارلیمنٹ نے شاہی جانشینی قانون میں ترمیم کردی

جاپانی پارلیمنٹ نے شاہی جانشینی قانون میں ترمیم کردی

عوامی خواہشات کے برعکس خواتین کے تخت سنبھالنے پر پابندی برقرار

ٹوکیو (اے ایف پی )جاپانی پارلیمنٹ نے ملک کے قدیم شاہی خاندان کے مستقبل کو بچانے کے لیے جانشینی کے قوانین میں اہم تبدیلیاں تو کر دی ہیں لیکن عوام میں بے پناہ مقبولیت کے باوجود خواتین کے تخت سنبھالنے پر پابندی برقرار رکھی ہے ۔اس نئے قانون کے پاس ہونے کے بعد اب موجودہ شہنشاہ ناروہیٹو کی 24 سالہ مقبول بیٹی، شہزادی آئیکو کبھی جاپان کی ملکہ نہیں بن سکیں گی۔ جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم، ثنائی تاکائیچی کی قدامت پسند حکومت نے عوامی رائے کے برعکس صرف مردوں کے ذریعے ہی شاہی نسل آگے بڑھانے کی روایت کو ترجیح دی ہے ۔ شاہی خاندان کی نسل بچانے کے لیے اب دوسری جنگِ عظیم کے بعد شاہی رجسٹر سے خارج ہونے والے 11 دور کے خاندانوں سے 15 سال سے زائد عمر کے غیر شادی شدہ لڑکوں کو گود لے کر دوبارہ شاہی خاندان کا حصہ بنایا جا سکے گا، تاکہ ان کے مستقبل کے بیٹے تخت کے حقدار بن سکیں۔ اب شاہی خاندان کی خواتین کسی عام شہری سے شادی کے بعد بھی اپنا شاہی مرتبہ اور پروٹوکول برقرار رکھ سکیں گی ۔ تاہم ان کے بچے شہنشاہ بننے کے اہل نہیں ہوں گے ۔جاپان کے شاہی خاندان میں اس وقت کل 16 ارکان ہیں جن میں سے صرف 5 مرد ہیں۔ خاندان کے مستقبل کا پورا دارومدار اب شہنشاہ کے 19 سالہ بھتیجے شہزادہ ہیساہیٹو پر ہے ۔ اگر مستقبل میں ان کی شادی کے بعد ان کا کوئی بیٹا نہیں ہوتا، تو پرانے قوانین کے تحت یہ شاہی نسل بالکل ختم ہو جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...