ضم اضلاع میں وفاقی ٹیکسز نامنظور ،فیصلہ واپس نہ ہوا تو سخت ردعمل دینگے:وزیراعلیٰ پختونخوا

ضم  اضلاع  میں  وفاقی  ٹیکسز  نامنظور ،فیصلہ  واپس  نہ  ہوا  تو  سخت  ردعمل  دینگے:وزیراعلیٰ  پختونخوا

وفاق سے مذاکرات کیلئے وفد تشکیل دیا جا ئیگا،صوبائی حکومت ضم اضلاع میں کوئی ٹیکس نہیں لے رہی:سہیل آفریدی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ایکشن پلان تیار ، امن و امان پر الگ جرگہ ہوگا:گرینڈ جرگے سے خطاب ،سفارشات پر غور

 پشاور (دنیا نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ضم اضلاع میں وفاقی ٹیکسز نامنظور ہے ، وفاقی حکومت سے مذاکرات کیلئے ایک اعلیٰ سطح وفد تشکیل دیا جائے گا، تاہم اگر وفاق نے ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو اس پر سخت ردعمل دیں گے ، صوبائی حکومت ضم اضلاع میں کوئی ٹیکس نہیں لے رہی ، ملاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز بھی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز  ضم اضلاع اور سابق پاٹا میں وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس پشاورمیں منعقدہ گرینڈ جرگے سے خطاب میں کیا۔ پختونخوا حکومت کی طرف سے منعقد ہ گرینڈ جرگے میں گورنر پختونخوافیصل کریم کنڈی،صوبائی کابینہ کے ارکان،پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، سیاسی جماعتوں کے قائدین ،منتخب نمائندوں ،ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ،تاجر رہنماء بھی موجود تھے ۔اس موقع پر ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملہ پرمختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پختونخوا نے مزید کہا کہ صوبے کے مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کے تعاون کو سراہتے ہیں ،عوامی مفاد حکومت کی اولین ترجیح ہے ، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے صوبائی ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جس پر مؤثر عملدرآمد سے چار ماہ کے اندر امن کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے ۔سہیل آفریدی نے مزید اعلان کیا کہ امن و امان کے معاملے پر الگ جرگہ جبکہ خیبرپختونخوا کے مالی حقوق کیلئے اسلام آباد میں بھی ایک جرگہ منعقد کیا جائے گا، اس گرینڈ جرگے کا مقصد متفقہ لائحہ عمل اور مشترکہ حکمتِ عملی طے کرنا ہے ،تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو آراء اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...