امریکا کا ایرانی جوہری پلانٹ پر حملہ:ایران کی تصدیق،ایٹمی بجلی گھر پر مبینہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں:آئی اے ای اے
ڈارخوین پلانٹ پر حملے میں متعدد پروجیکٹائل استعمال کیے گئے :ایرانی جوہری توانائی تنظیم ،منصوبہ زیر تعمیر ،تابکاری کا خدشہ نہیں :عالمی ایجنسی امریکی جارحیت پر ایران کے کویت اوربحرین پرحملے ،عبوری معاہدہ اہم نہیں:ٹرمپ،جنگ یاامن ،اختیارسپریم لیڈرکے پاس:عباس عراقچی
تہران،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکااور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی اور امریکا نے ڈارخوین جوہری پلانٹ پرحملہ کیا ہے جس کی ایران نے تصدیق کردی ہے جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کاکہناہے کہ ایٹمی بجلی گھر پر مبینہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔دوسری طرف اردن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک کے لاپتا ہونے کے بعد امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں تازہ فضائی حملے کیے جبکہ ایران نے کویت، بحرین اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آئی اے ای اے نے ایران کے علاقے ڈارخوین میں زیرِ تعمیر مجوزہ جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر رات گئے ہونے والے امریکی حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔
ایجنسی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تنصیب ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے اور آئی اے ای اے کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا، تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں ہے ۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے اطراف فوجی کارروائیوں میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کو دہرایا ہے ۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے ملک کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر پر امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ادارے نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے مقامی وقت کے مطابق رات تین بج کر 39 منٹ کے قریب اس جوہری تنصیب پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔بیان میں ڈارخوین جوہری بجلی گھر کو ایرانی قوم کے وقار اور سائنسی خود کفالت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ دشمن نے زیرِ تعمیر منصوبے کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پروجیکٹائل استعمال کیے ۔
امریکا نے گزشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی نگرانی کے تحت کام کرنے والی ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر متعدد حملے کیے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کا حصہ ہیں۔امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام)کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے گئے حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنا اور اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے مسلسل آٹھویں رات ہونے والی کارروائیوں میں ساحلی نگرانی، فضائی دفاع، میزائل و ڈرون ذخائر اور بحری فوجی صلاحیتوں کو ہدف بنایا گیا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دو فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی امر یکا کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، ایران کی جانب سے اردن میں بیلسٹک میزائل حملوں میں امریکی فوج کے 2 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کی تصدیق سینٹ کام نے بھی کی ہے ، اس اعلان کے بعد جنگ شروع ہونے سے اب تک مرنے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جب کہ 420 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دئیے جائیں گے اور ایران کے عبوری معاہدے سے دستبرداری کی ذرا بھی پروا ہ نہیں ہے ۔
امریکی کیبل نیوز نیٹ ورک نیوز نیشن کو ٹیلی فونک انٹرویو میں اردن پر ایران کے میزائل حملوں سے 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر خاموشی توڑتے ہوئے ٹرمپ نے واقعہ کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ صورتحال دیکھ کر مجھے بے حد دکھ ہے ، میں ایران کو کبھی نیو کلیئر ہتھیار حاصل کرنے نہیں دوں گا، اگر ایران ڈیل پر عمل نہیں کر رہا تو امریکا کو بھی فکر نہیں۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو تنازع بڑھانے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں خوزستان، ہرمزگان، قشم، سیرک اور زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ملک کا دفاع آخری سانس تک جاری رکھا جائے گا،امریکی حملوں سے شہید ہونے والے افراد کا خون رائیگاں جانے نہیں دیں گے اور جنگ یا امن کا حتمی فیصلہ صرف سپریم لیڈر کے اختیار میں ہے ۔
ان کا کہناتھاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا قریبی ہوں، ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، صرف چند لوگوں کو ہی ان سے ملنے کی اجازت ہے ۔ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں امریکی فوجی اڈوں، علی السالم ایئر بیس، العدیری کیمپ، بحرین میں امریکی تنصیبات اور عراق کے بعض اہداف پر ڈرون اور میزائل حملوں کے دعوے بھی کیے جبکہ ایک امریکی ایم کیو9 ڈرون مار گرانے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ ادھر کویت اور بحرین نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد اہداف کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے سفری احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر فوری جنگ بندی، تحمل اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے ۔مسلسل امریکی اور ایرانی جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، عالمی توانائی کی سپلائی اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments