سیلاب سے تباہی جاری،4بچے ڈوب کر جاں بحق:درجنوں دیہات،سینکڑوں ایکڑاراضی زیر آب
فیروزوالہ میں بند ٹوٹنے سے خاندان کے 3بچے اور نشتر کالونی میں آصف پانی میں نہاتے ڈوب گئے ، ہزاروں افراد محصور رحیم یارخان کے علاقوں میں دریائے سندھ ،چناب سے کئی علاقے متاثر، لوگوں کی نقل مکانی، 5روز تک مزید بارشیں
لاہور،شیخوپورہ،مریدکے ،رحیم یارخان، پشاور، کراچی (نمائندگان دنیا، کرائم رپورٹر،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں)مون سون کی بارشوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں سے تباہی جاری ، تحصیل مریدکے ، نارنگ منڈی کے علاقوں میں متعدد دیہات سمیت سینکڑوں ایکڑاراضی زیر آب آ گئی۔ شیخوپورہ کے علاقے فیروزوالہ میں بند ٹوٹنے سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ۔ پٹھان کالونی فیروزوالہ میں نالہ بھیڑ کا بند ٹوٹنے سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے جنکی شناخت دانیال، نعمان اور برہان کے ناموں سے ہوئی،بچوں کی عمریں 10 سے 15 سال کے درمیان تھیں ۔ بند ٹوٹنے پرگھر کے قریب 5 سے 10 فٹ پانی جمع ہوگیا جہاں تینوں بچے نہاتے ہوئے ڈوب گئے ۔ ریسکیو اہلکار وں نے بچوں کو پانی سے نکال کر ہسپتال منتقل کیاتاہم ڈاکٹرز نے اُنکی موت کی تصدیق کردی۔ بچوں کے ورثا نے حادثے کو انتظامیہ کی غفلت قرار دیتے ہوئے جی ٹی روڈ پر ٹریفک معطل کردی اور انتظامیہ کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
تحصیل مریدکے اور گردونواح کے علاقوں میں نہروں اور نالہ ڈیک کے بند ٹوٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ،سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آنے سے کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ،متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں۔متاثرہ افراد کے مطابق نارووال روڈپر قائم سکلز یونیورسٹی سمیت مختلف فیکٹریوں اور ملز میں بھی پانی داخل ہوگیا جس سے بھاری مالی نقصان پہنچا ۔ سیلابی پانی میں خطرناک سانپ نکل آنے سے خواتین، بچوں اور بزرگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے ۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ مریم نواز ودیگرحکام سے فوری نوٹس لینے ، ہنگامی امداد فراہم کرنے ، نقصانات کا شفاف سروے کرانے اورتحقیقات کرا کرذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔کالاشاہ کاکو نالہ ڈیک میں ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ڈوبنے والے راوی ریان کے رہائشی 20 سالہ ابوہریرہ کودوروزتک آپریشن کے باوجودتلاش نہ کیاجاسکا ۔نارنگ منڈی اور گردونواح میں بھی سیلابی پانی نے تباہی مچا دی، قرشی والا کے قریب لاہور سیالکوٹ موٹروے سے ملحقہ متعدد دیہات زیر آب آ گئے ،ہزاروں افراد محصور ہو کر رہ گئے ۔
نورپور گائوں میں 14 گھروں کی چھتیں گر گئیں ریسکیوٹیمیں کشتیوں پر متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں ،بے گھر ہونیوالے خاندانوں کیلئے سڑک کنارے خیمے نصب کیے گئے ہیں ۔ہزاروں ایکڑ زرعی رقبہ زیر آب آنے سے چاول کی فصل تباہ ہو گئی ، کاشتکاروں کو کروڑوں کا نقصان پہنچا ہے ۔ نشتر کالونی کے علاقے خالق نگر میں بارشی پانی میں نہاتے 15 سالہ لڑکا آصف رفیق ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے رحیم یارخان کے علاقے احسان پورکے نزدیک جمہ واہ میں بڑا شگاف پڑگیا،سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرآب آگئی، قریبی دیہات اورمواضعات بھی ڈوبنے کاخدشہ پیداہوگیا۔ظاہر پیر کے علاقے بیٹ پرارہ اور بیٹ دیوان کے علاقوں میں زمیندارہ بند ٹوٹنے پرسیلابی پانی نے تباہی مچا دی، کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں ، درجنوں خاندان مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلابی ریلہ جلال پورپیروالا کے علاقوں میں داخل ہوگیا، موضع نڑول، موضع رپڑی اور موضع وچھہ سندیلہ متاثر ہونا شروع ہوگئے ،سیلابی پانی نے کھڑی فصلوں کو لپیٹ میں لے لیا، سیلابی پانی بیٹ کے علاقوں میں موجود بستیوں تک پہنچ گیا، متعدد راستے بھی منقطع ہوگئے ۔
ادھر سکھر او رگرد و نواح میں تیز ہوا کے ساتھ موسلا دھار بارش سے سیپکو کے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے ۔خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں سے دریائے کابل اور دریائے سندھ میں پانی کے بہا ئومیں اضافہ ہوگیاجبکہ نوشہرہ کے علاقے کنڈ خیر آباد میں دونوں دریائوں کے سنگم پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ۔ دوسری جانب پشاور اور گرد و نواح میں دو روز وقفے کے بعد بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ۔پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ،ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل، دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر نچلے درجے کاسیلاب ہے ۔نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے ، بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے ، وزیرآباد نالہ پھلکو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں مون سون کا سسٹم بدستور موجودہے ، آئندہ پانچ روز تک مزید بارشوں کا امکان ہے ۔ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے ۔ پنجاب اور خیبرپختونخواکے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ 29 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں شدید بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ، تودے گرنے اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے ۔ محکمہ موسمیات نے سندھ میں تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، حیدرآباد، سکھر ،ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار ،سانگھڑ، شہید بینظیر آباد، کشمور، خیرپور،نوشہرو فیروز اور جیکب آبادمیں بھی بارش کی پیشگوئی کی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments