پاکستان :صرف 100ماہر نفسیات رجسٹرڈ، فی لاکھ پر0.05 دستیاب
ملک میں سرکاری سطح پر ماہرین نفسیات کی قومی رجسٹری یا مرکزی ڈیٹا بیس موجود نہیں ذہنی امراض کے صرف 11مخصوص ہسپتال، بچوں کیلئے صرف 5مراکز،عالمی ادارہ صحت
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سرکاری سطح پر ماہرینِ نفسیات کی قومی رجسٹری یا مرکزی ڈیٹا بیس موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی باضابطہ ذہنی صحت کی افرادی قوت میں صرف 100 ماہرینِ نفسیات رجسٹرڈ ہیں یعنی فی ایک لاکھ آبادی پر صرف 0.05 ماہرِ نفسیات دستیاب ہے ۔ عالمی بینک کے 2024 کے تخمینے کے مطابق پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی جس کے بعد یہ تناسب مزید کم ہو کر 0.04 رہ جاتا ہے ۔غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی مجموعی تعداد 1200 ہے جن میں 300 ماہرینِ نفسیات 200 ذہنی صحت کی نرسیں اور 600 سوشل ورکرز شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد بھی اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتی کیونکہ اس میں نجی شعبے ، این جی اوز اور تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے گریجویٹس اور کونسلرز کا مکمل ریکارڈ شامل نہیں۔ ملک میں ذہنی امراض کے لیے صرف 11 مخصوص ہسپتال ہیں جبکہ عام ہسپتالوں میں قائم نفسیاتی یونٹس کی تعداد 800 کے قریب ہے ۔ ہسپتالوں سے منسلک آؤٹ پیشنٹ سہولیات 3729 اور کمیونٹی کی سطح پر قائم غیر ہسپتال مراکز 624 ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے صرف 2 آؤٹ پیشنٹ اور 3 ان پیشنٹ مراکز دستیاب ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments