آزاد کشمیر الیکشن : ن لیگ 9، پیپلز پارٹی 4، پہلے مرحلے میں 13 نشستوں پر پولنگ کے نتائج آگئے، سابق وزیراعظم انوارالحق کو شکست
ن لیگ کے طارق فاروق، وقارنور، راجہ رزاق، رخسار احمد، اظہر صادق، عمیر نعیم، ایاز نثار، راجہ آصف کامیاب ، راجہ ریاست کو برتری، آئی پی پی کے علی شان سونی شکست کے بعدزیرحراست پی پی کے یاسر سلطان، قاسم مجید، چودھری یاسین، ظفر اقبال جیت گئے ، نکیال میں پی پی کارکن قتل، بھمبر میں بیلٹ باکس نذر آتش ،ہر پارٹی نے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا:چیف الیکشن کمشنر لیگی امیدوارٹھپے لگاتے رہے ،انکی فائرنگ سے ہماراجیالا شہیدہوگیا،الیکشن کمیشن کیاکررہا؟حکام کدھرہیں؟بلاول،ندیم چن ودیگر،حکومت اورپوری انتظامیہ آپکی ،الزامات مسترد :امیرمقام
مظفرآباد (محمد اسلم میر سے )آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف 4 نشستوں پر کامیاب ہو سکی۔ کئی حلقوں میں سخت اور کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا جبکہ بعض مقامات پر ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات نے انتخابی عمل کو بھی متاثر کیا۔ نکیال میں سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا جبکہ بھمبر میں ایک پولنگ سٹیشن پر بیلٹ باکس کو آگ لگا دی گئی۔غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق بھمبر، میرپور اور کوٹلی کے بیشتر حلقوں میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی برتری برقرار رکھتے ہوئے اہم نشستیں جیتیں جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی چند روایتی حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے ووٹرز کی بڑی تعداد اور مختلف سیاسی جماعتوں کی درخواست پر پولنگ کا وقت شام پانچ بجے سے بڑھا کر چھ بجے تک کر دیا جس کے بعد پولنگ کا عمل اختتام پذیر ہوا۔مجموعی طور پر ٹرن آئوٹ چالیس سے پچاس فیصد رہا جبکہ بعض انتخابی حلقوں میں نوئے فیصد بھی ٹرن آئوٹ دیکھنے کو ملا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھمبر شہر سے مسلم لیگ (ن) کے طارق فاروق نے 28641 ووٹ حاصل کرکے سابق وزیراعظم انوار الحق کو شکست دی جنہیں 24987 ووٹ ملے ۔ بھمبر برنالہ سے مسلم لیگ (ن) کے وقار احمد نور 31105 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلز پارٹی کے پرویز اشرف 27462 لیکر دوسرے نمبر پر رہے ،سماہنی سے مسلم لیگ (ن) کے راجہ محمد رزاق نے 26874 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے علی شان سونی 22918 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ،میرپور کھڑی شریف سے مسلم لیگ (ن) کے چودھری رخسار احمد 29731 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے صہیب ارشد کو 26140 ووٹ ملے۔
ڈڈیال سے مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق نے 15427ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے افسر شاہد صرف9832ووٹ لے سکے ۔پیپلز پارٹی نے میرپور شہر سے یاسر سلطان کی کامیابی کی صورت میں اہم نشست اپنے نام کی۔ انہوں نے 30214 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چودھری سعید 27901 ووٹ لے سکے ۔ چکسواری میں سابق وزیر اعظم چو دھری عبدالمجید کے فرزند اور پیپلز پارٹی کے امیدوار قاسم مجید 28763 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش کو 26884 ووٹ ملے ۔کوٹلی شہر میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چودھری محمد یاسین نے 32418 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے فاتح محمود 29765 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ، کوٹلی نکیال سے مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم 27995 ووٹ لے کر ا لیکشن جیتے جبکہ اسکے مد مقابل پیپلز پارٹی کے جاوید بڈھانوی کو 25603 ووٹ ملے ۔راج محل سے پیپلز پارٹی کے ملک ظفر اقبال نے 26547 ووٹ حاصل کرکے مسلم لیگ (ن) کے ملک نواز کو شکست دی ۔
چڑہوئی سے مسلم لیگ (ن) کے راجہ ریاست علی خان آگے ہیں جبکہ چودھری یاسین دوسرے نمبر پر ہیں۔ کھوئی رٹہ میں مسلم لیگ (ن) کے ایاز نثار نے 30106 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے ولید انقلابی 26912 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ،سہنسہ کی نشست مسلم لیگ (ن) کے راجہ آصف جیت گئے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری اخلاق دوسرے نمبر پر رہے ۔انتخابی عمل کے دوران نکیال میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ بھمبر کے دربار بابا شادی شہید پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ آرائی کے دوران شرپسند بیلٹ باکس چھین کر فرار ہوگئے اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی۔
ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے مطابق جلائے گئے بیلٹ باکس میں 232 ووٹ موجود تھے ۔ الیکشن کمیشن نے اس پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ بعد میں کرنے کا اعلان کیا ہے ۔دوسری جانب سماہنی میں استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار علی شان سونی کے حامیوں پر مبینہ طور پر بیلٹ باکس لے جانے کی کوشش کا الزام سامنے آیا جبکہ انتخابی نتائج کے بعد علی شان سونی اور ان کے صاحبزادے کو علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج کی وصولی اور ترسیل کا عمل مرحلہ وار جاری ہے اور تمام حلقوں کے سرکاری نتائج مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری کیے جارہے ہیں ۔چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیرغلام مصطفی مغل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت نے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،سماہنی میں پولنگ میں مداخلت کرنے والے کو گرفتار کر لیا گیا ۔
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،،دنیانیوز،مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پیپلزپارٹی نے کہاہے کہ کوٹلی میں ن لیگ کے امیدوار ٹھپے لگا تے رہے ،انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی فائرنگ سے پی پی پی کا جیالا جاں بحق ہوگیا، آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات ہی مسائل کے پائیدار حل کی ضمانت ہیں،جبکہ مسلم لیگ نے پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم، حکومت اور پوری انتظامیہ آپ کے پاس ہے ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا مظفر آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ کشمیر کی تاریخ کا اہم ترین الیکشن ہے ، قومی مسائل کے حل کے لیے شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات ناگزیر ہیں۔مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ جس انداز میں حل ہونا چاہیے تھا، اس طرح نہیں ہو سکا۔ اگر انتخابات متنازع ہوئے تو آنے والی حکومت کا مینڈیٹ بھی متنازع ہوگا، متنازع مینڈیٹ رکھنے والی حکومت ملک کو درپیش چیلنجز اور عوامی مسائل کا مؤثر حل نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھے گی۔
انہوں نے شفاف انتخابی عمل کو سیاسی استحکام اور جمہوری مضبوطی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایل اے 9 کوٹلی 2 نکیال میں جیالے مختار یونس کی شہادت پر لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا میرپور نکیال میں میرا کارکن شہید ہوگیا، متعلقہ حکام کہاں ہیں؟ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا مجھے اطلاع ملی ہے کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار عمیر نعیم کی جانب سے فائرنگ کرکے میرے جیالے مختار یونس کو شہید کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کیا کررہا ہے ؟ دو روز قبل بھی مسلم لیگی کے رہنما سردار عمیر نعیم کی ساتھیوں سمیت کھلے عام فائرنگ کی ویڈیو کااگر متعلقہ حکام نوٹس لے لیتے تو آج ایک انسانی زندگی کی قیمت ادا نہ کرنا پڑتی۔انہوں نے کہا شہید جیالا مختار یونس نکیال میں اپنے امیدوار جاوید بڈھانوی کے ساتھ انتخابی مہم چلارہا تھا، اپنی شکست سے بوکھلا کر پاکستان پیپلزپارٹی کے مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن، صوبائی وزیر سندھ سعید غنی، ممبر قومی اسمبلی مہرین بھٹو اور ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ن لیگ وفاق کی نہیں پنجاب کی جماعت ہے ۔ پی پی سیاسی جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ۔ معمولی بارشوں سے ہی پنجاب میں بڑے پیمانے پر پانی جمع ہو گیا اور اس سے ستھرا پنجاب منصوبے کی ناکامی بے نقاب ہو گئی ۔ ندیم افضل چن نے کہا وفاق نے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن کسانوں سے گندم نہیں خریدی جا رہی۔ کوٹلی میں ن لیگ کے امیدوار ٹھپے لگا تے رہے ۔ ہم ریاست کو بچانے کے لیے نکلے ہیں۔ اپنی بسوں اور جہازوں پر چل کر ریاست کو زخمی نہ کریں۔ سعید غنی نے کہا آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے پی پی پی کے کچھ کارکن زخمی ہوئے اور ایک کی جان چلی گئی۔ لیکن پھر بھی الیکشن کمیشن کا کردار نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہا بسیں بھیج کر انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سینیٹر شیری رحمان نے نکیال میں پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس کی ہلاکت اور تین کارکنوں کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔شیری رحمان نے کہا ن لیگ جان بوجھ کر آزادکشمیر کا انتخابی عمل متنازعہ بنا رہی ہے ، پیپلز پارٹی کے شرجیل انعام میمن نے کہا ن لیگ اپنے بدمعاشوں اور غنڈوں کو لگام دے ، زبردستی اور دھونس کے ذریعے آزاد کشمیر میں الیکشن چوری نہیں کرنے دیں گے ۔ ن لیگ سمجھتی ہے ہر کوئی بکاؤ مال ہے اور لالچ دے کر سب کو خریدا جا سکتا ہے ، تاہم کشمیری عوام ان کے ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف ہیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم، حکومت اور پوری انتظامیہ پیپلز پارٹی کے پاس ہے ۔
پیپلز پارٹی کی قیادت اور وزراء بغیر سوچے سمجھے بیانات دے رہے ہیں، الزامات لگانا مضحکہ خیز ہے ۔انہوں نے فتح پور تکیال میں ہلاکت کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہاآج کے واقعے میں مسلم لیگ (ن) کا کارکن بھی زخمی ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران فتح پور تکیال میں فائرنگ سے مسلم لیگ (ن) کا ایک کارکن اور اہم رہنما ملک عاشق حسین بھی جاں بحق ہوئے تھے ۔وفاقی وزیر نے کہا سیاسی جماعتوں کو الزام تراشی کے کھیل سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ابھی ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے اور اس مرحلے پر ایسے بیانات افسوسناک ہیں۔امیر مقام کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران قائد مسلم لیگ (ن)میاں نواز شریف، انہوں نے خود اور دیگر رہنماؤں نے پارٹی کے گزشتہ ترقیاتی کاموں اور مستقبل کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کے پاس بہترین اور محنتی ٹیمہے ، جبکہ تمام تر حکومتی وسائل کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے گنتی سے قبل الزام تراشی کا سلسلہ شروع کرنا افسوسناک ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments