آئینی عدالت کا امن و امان حکمنامہ میں توسیع سے انکار
عدالت کا حکمنامہ آج تک محدود تھا اور نہ ہی توسیع کی ضرورت :جسٹس امین الدین
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی مبینہ رہائی فورس سے متعلق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی،سلمان اکرم راجہ اور دیگر کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت علی بخاری نے وکالت نامہ اور جواب جمع کرانے کی مہلت طلب کی اور موقف اختیار کیا کہ وہ مقدمہ میں سہیل آفریدی کی نمائندگی کر رہے ہیں، صبح ہی آگاہ کیا گیا کہ سلمان راجہ کی وکالت بھی کرنی ہے ۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے پارٹی سیکرٹری جنرل کو جواب جمع کرانے کی مہلت دی جائے ۔ آئینی درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک نجی ملیشیا قائم کر رہے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت امن و امان کی صورتحال خراب نہ کرنے کے اپنے سابق حکمنامہ میں توسیع کرے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے ، عدالت کا حکمنامہ صرف آج کی تاریخ تک محدود نہیں تھا اس لیے توسیع کی ضرورت نہیں۔ ادھر عدالت نے نو مئی کے مقدمات خیبرپختونخوا سے واپس لینے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا کہ حکومت کو درخواست پر کچھ اعتراضات ہیں۔ درخواست گزار براہ راست آئینی عدالت سے رجوع نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو جواب جمع کرانا چاہتا ہے کرا دے ۔ عدالت نے دونوں درخواستوں کی سماعت گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments