مریم نواز نے کسانوں کیلئے لیب آن ویلز پراجیکٹ لانچ کردیا
مٹی ،پانی کے نمونوں کا فوری سائنسی تجزیہ،موقع پر رپورٹ ،رہنمائی ملے گی گرین ریلوے کوریڈور منصوبے کا آغاز، ویران زمینوں پر 32 پارکس بنیں گے
لاہور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے کسانوں کے لئے انقلابی پراجیکٹ لیب آن ویلز کاآغاز کردیا۔کسان کی صرف ایک کال سے جدید سائنسی لیبارٹری سیدھی اس کے کھیت میں حاضرہوجائے گی۔ لیب آن ویلز کی ٹیمزکسان کے کھیت سے مٹی اور پانی کے نمونے آن دی سپاٹ حاصل کرے گی۔ کسان کے کھیت میں ہی مٹی اور پانی کے نمونوں کا فوری سائنسی تجزیہ کیا جائے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ مٹی کی درست پرکھ اور متوازن کھادوں کا استعمال ہی پنجاب کو زرعی طور پر خودکفیل بنائے گا۔ پنجاب میں زراعت کو روایتی طریقوں سے نکال کر سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں داخل کر دیا ہے ۔ ہمارا ہدف کسان کی پیداواری لاگت کو کم کرنا اور فی ایکڑ حاصل ہونے والی آمدن کو بڑھانا ہے ۔ لیب آن ویلز کے ذریعے کھیتوں کی مٹی کی پی ایچ اور الیکٹریکل کنڈکٹیوٹی کی آن دی سپاٹ پیمائش کی جائے گی۔ زمین میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے بنیادی غذائی اجزاء کا سائنسی معائنہ ہوگا۔ مٹی اور پانی کے ٹیسٹنگ نتائج کو فوری طور پر موبائل ایپ میں درج کر دیا جائے گا۔ ٹیسٹنگ مکمل ہوتے ہی مٹی اور پانی کی سائنسی رپورٹ کا موقع پر ہی فوری اجراء ہوگا۔
لیب آن ویلز کی بدولت کھیت پر ٹیسٹ کرکے موقع پر رپورٹ جاری کی جائے گی اور فوراً رہنمائی بھی دی جائے گی۔بریفنگ میں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ رپورٹ میں زمین کی ضرورت کے مطابق کھادوں اور مناسب فصلوں کی سفارشات شامل کی جائیں گی۔ رپورٹ کا لنک کسان کو براہِ راست ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کے ذریعے فوری بھیجا جائے گا۔ کسان اپنے موبائل پر ایک کلک سے مٹی اور پانی کی مکمل ڈیجیٹل رپورٹ دیکھ سکیں گے ۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ لیب آن موبائل کی شفافیت اور کڑی مانیٹرنگ یقینی بنانے کے لیے سینٹرل کنٹرول روم فعال کر دیا گیا ہے ۔ سینٹرل کنٹرول روم سے تمام موبائل لیبارٹریز کی رئیل ٹائم جی پی ایس ٹریکنگ کی جائے گی۔ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی جانچنے کے لیے لائیو کیمرہ سٹریمنگ اور ڈیش بورڈ مانیٹرنگ کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے ۔ کسان کی ایک کال پر موبائل لیب کا شیڈول وزٹ اور درخواست کا فوری اندراج کیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ لیب انچارج کی منظوری کے بعد لیب آن ویلز کسان کے کھیت کیے جائزے کے لیے روانہ ہوگی۔ موبائل ایپ کے ذریعے فیلڈ ٹیم کی موقع پر حاضری کی رجسٹریشن یقینی بنائی جائے گی۔ رئیل ٹائم کلاؤڈ ڈیٹا سٹوریج کے ذریعے پنجاب کا ڈیجیٹل جی پی ایس سوئل میپ تیار کیا جائے گا۔
فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ جبکہ پائیدار زراعت کی بنیاد رکھ دی گئی۔ سالانہ 20 ہزار مٹی کے نمونوں کا ہدف مقرر،سالانہ 500 کسان فیلڈ ڈیز کا انعقاد ہوگا۔ سالانہ 15 ہزار کسانوں کو تربیت دی جائے گی۔ دریں اثنا مریم نواز کے سرسبز اور سموگ فری پنجاب ویژن کے تحت جدید دنیا کی طرز پر گرین ریلوے کوریڈور کے انقلابی منصوبے کا آغازکر دیا گیا۔ چار مراحل پر مشتمل منصوبے کے ذریعے ریلوے کی ویران اور کوڑا کرکٹ کا شکار زمینوں پر 32 پارکس تعمیر کیے جائیں گے ۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں شاہدرہ سے رائیونڈ تک 20 ایکڑ رقبے کو خوبصورت سبزہ زاروں، باغات اور سیر گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ ملحقہ زمین پر 21 پارکس بھی بنا دئیے گئے جو شہریوں کو تفریح فراہم کر رہے ہیں اور ماحول کی بہتری میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ اقدام ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ریلوے ٹریکس کے ساتھ پارکس بنانا ہے ۔ یہ اقدام پنجاب کو سرسبز، خوبصورت بنانے ، بچوں، خواتین اور عام شہریوں کو پارکس اور تفریح فراہم کرنے کے مرحلہ وار منصوبے کی کڑی ہے ۔ 45 کلومیٹر طویل پنجاب گرین ریلوے کوریڈور منصوبے کی مجموعی لاگت 1 ارب 77 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
چار پیکیجز میں تقسیم منصوبے پر پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی اور پاکستان ریلوے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منصوبے کے دیگر مراحل کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں جلد دور کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گرین ریلوے کوریڈور منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار بڑھانے کا حکم دیا۔ شہریوں نے گرین ریلوے کوریڈور منصوبے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا اور شکریہ ادا کیا۔ کوڑے دانوں اور کچرے کے ڈھیر کو خوبصورت پارکس میں بدلنا قابل تحسین ہے شہریوں نے کہا کہ بچوں کو کھیلنے کی جگہ میسر آ گئی ہے ۔ ایک بزرگ شہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین نہیں آ رہا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہوسکتا ہے ۔ مریم نواز شریف نے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن پر قوم کے ساتھ ملکر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا اورکہا عوام ہیپاٹائٹس کی بروقت سکریننگ کروا کر جانوں کو محفوظ بنائیں ۔شہریوں کو ہیپاٹائٹس کی سکریننگ اور مفت علاج کی سہولت حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ مشترکہ کاوشوں سے ہیپاٹائٹس کا خاتمہ کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments