جنگ ختم کرانے کی کوششیں : وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سعودی عرب میں، ترک صدر آج پہنچیں گے
سعودی عرب پہنچنے پر پاکستانی وفد کا استقبال شہزادہ سعود نے کیا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات طے ، رجب طیب اردوان بھی ملیں گے وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات،سٹریٹجک شراکت داری مستحکم کرنیکا عزم،ایران عمان معاہدہ جنگ خاتمے کیلئے مذاکرات کی راہ ہموار کریگا:دفتر خارجہ
ریاض،استنبول، اسلام آباد(وقائع نگار،نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطے میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے تحت سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورے پر جدہ پہنچ چکے ہیں جبکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی آج جمعہ کو سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ یہ اہم ترین پیشرفت امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ سفارتی و عسکری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے تناظر میں ہو رہی ہے ۔ترک ایوانِ صدرسے جاری بیان کے مطابق رجب طیب اردوان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقاتیں کریں گے۔
شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ گزشتہ روز سعودی عرب پہنچے تو نائب گورنر مکہ شہزادہ سعود بن مشال اور وزیرِ زراعت عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے استقبال کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اردن میں یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کے بعد مدینہ منورہ سے سعودی وفد میں شامل ہورہے ہیں۔
شہبازشریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کریں گے ، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے ۔سعودی عرب روانگی سے قبل شہباز شریف سے پاکستان میں تعینات چین کے سفیرجیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ چینی سفیر نے وزیراعظم کو چین کے صدر شی جن پنگ کا ایک خط پیش کیا جس میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105 ویں سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان کے خط پر اظہارِ تشکر کیا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مثبت پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے چین کے ساتھ آل ویدر سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے عوامی سطح پر رابطوں کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں اور پارلیمانوں کے مابین تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ملاقات میں باہمی تعاون اور باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب اگرچہ خلیجی خطے میں موجود کشیدہ صورتحال کے پس منظر میں ہو رہا ہے ، تاہم اس کی اہمیت فوری بحرانوں سے کہیں زیادہ ہے ، اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون، علاقائی و عالمی امور پر ہم آہنگی اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے ، سٹریٹجک تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط باہمی اعتماد، تعاون اور برادرانہ روابط پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خلیج اور مشرقِ وسطٰی کے بحران کے پرامن حل کیلئے برادر ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ، خصوصاً آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ۔
ترجمان نے عمان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان عمان کی امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کیلئے اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کے مسئلے کا حل فریقین کیلئے اسلام آباد معاہدے اور پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیہ میں مذاکراتی فریم ورک کی طرف واپسی کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے گا۔طاہر اندرابی نے کہا امید ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments