جوڈیشل انکوائری کی تجویز کے خلاف مقتول میررضاکے والد کے وکیل کا چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط

جوڈیشل انکوائری کی تجویز کے خلاف مقتول میررضاکے والد کے وکیل کا چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط

کراچی (سٹاف رپورٹر) نوجوان تاجر میر رضا علی کی مبینہ ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کی تجویز کے خلاف مقتول کے والد میر حسین کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط ارسال کردیا۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میر رضا علی کے والدین اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری نہیں کرانا چاہتے ، صوبائی حکومت تحقیقات سے بچنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی ہے ۔ میر رضا علی کے اہل خانہ کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے ، تاہم حکومت جوڈیشل کمیشن کے نام پر معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ قانون کے تحت کسی جرم یا واقعہ کی تحقیقات کا اختیار پولیس کے پاس ہے ، لہٰذا اس کیس کی تحقیقات بھی قانون کے مطابق پولیس ہی سے کرائی جائیں۔ وکیل نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ معاملے میں جوڈیشل انکوائری مقرر نہ کی جائے کیونکہ مقتول کے والدین ایسی کسی انکوائری کے خواہش مند نہیں ہیں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ اگر مستقبل میں عدالتی تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی تو میر رضا علی کے اہل خانہ خود عدالت سے رجوع کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...