بھولی ہوئی یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں:نئی تحقیق

بھولی ہوئی یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں:نئی تحقیق

لاہور(نیٹ نیوز)نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہ سکتی ہیں اور مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ ذہن میں واپس لایا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا کہ جس ماحولیاتی ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے ، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد دوبارہ فعال ہو سکتی ہے ۔ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت انتہائی پیچیدہ اور ناقص نظام ہے ۔ کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، بو یا دوسرے اشارے سے اچانک واپس آ سکتی ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...