ایران:معاشی مسائل مزید سنگین ،پٹرول کی قلت:تیل کی آمدن میں کمی اور صنعتوں کی تباہی نے معیشت پر شدید دباؤ ڈالا:پزشکیان آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں:اردوان

ایران:معاشی مسائل  مزید  سنگین ،پٹرول  کی  قلت:تیل  کی  آمدن  میں  کمی  اور  صنعتوں  کی  تباہی  نے  معیشت  پر  شدید  دباؤ  ڈالا:پزشکیان  آبنائے  ہرمز  کی  بندش  کسی  کے  مفاد  میں  نہیں:اردوان

ایران میں پٹرول کی اوسط یومیہ کھپت 135 ملین لٹر ، ملک کی ریفائنریاں روزانہ 112 ملین لٹر پٹرول تیار کررہیں، پٹرول تقسیم کے نظام کا جائزہ لیا جا رہا، محکمہ توانائی ایرانی فوجی سربراہ کا امریکی فوجیوں کے قتل یا گرفتار ی پر انعامی رقم کا اعلان ،ایران نے لاپتہ 3 پائلٹس کی تلاش کیلئے ٹیم کو قطر میں داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا

تہران،انقرہ (نیوز ایجنسیاں)ایران میں معاشی مسائل مزید سنگین،پٹرول کی قلت پیدا ہو گئی ، حکومت نے جنگی حالات اور پابندیوں کے پیش نظر پٹرول کی تقسیم کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کیلئے تین تجاویز پیش کی ہیں، تاہم حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔ محکمہ توانائی کے سربراہ ساقب اصفہانی کے مطابق موجودہ حالات میں ملک میں پٹرول کی کھپت کو پیداوار کے برابر لانا ضروری ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت پٹرول کی تقسیم کے حوالے سے تین مختلف نکات پر غور کر رہی ہے ۔پہلا منصوبہ یہ ہے کہ اس صورت میں پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تاہم روزانہ صرف ملکی پیداوار کے قریب 121 ملین لٹر پٹرول ہی پمپس کو فراہم کیا جائے گا۔ جب یہ مقدار ختم ہو جائے گی تو پمپس مزید پٹرول فراہم نہیں کریں گے ۔دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ اس تجویز کے تحت دستیاب تقریباً 121 ملین لٹر پٹرول کو گاڑیوں کے درمیان مقررہ کوٹے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ جو افراد اپنے مقررہ کوٹے سے زیادہ پٹرول استعمال کریں گے ، انھیں اضافی پٹرول آزاد مارکیٹ کی قیمت پر خریدنا ہوگا ۔تیسرا منصوبہ اس تجویز میں پٹرول کا کوٹا گاڑیوں کے بجائے افراد کو منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے ۔

منصوبے کے تحت روزانہ تقریباً 30 ملین لٹر پٹرول پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹیکسیوں کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ باقی مقدار عوام میں تقسیم کی جائے گی۔ایرانی حکام کے مطابق اس نظام میں ہر فرد کو ماہانہ تقریباً 30 لیٹر پٹرول کا کوٹا مل سکتا ہے ۔ اس کوٹے کو دوسرے افراد کو منتقل کرنے کے علاوہ خرید و فروخت کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے ۔اصفہانی کے مطابق ایران میں پٹرول کی اوسط یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لٹر ہے ، جبکہ ملک کی ریفائنریاں روزانہ تقریباً 112 ملین لٹر پٹرول تیار کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹروکیمیکل مصنوعات کو پٹرول میں تبدیل کرکے تقریباً 9 ملین لٹر مزید فراہم کیے جاتے ہیں۔ایران میں پٹرولکی قیمت اور تقسیم کے نظام پر بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے ، خصوصاً صوبہ کرمان میں نافذ کیے جانے والے ایندھن کے منصوبے کے بعد۔ کرمان میں پہلے سے موجود کوٹے کے علاوہ 5ہزار تومان کا ایک اضافی کوٹا متعارف کرایا گیا تھا، جسے بعد میں مقامی حکام نے بڑھا کر 40 لٹر کرنے کا اعلان کیا۔اس منصوبے کے نفاذ کے بعد پٹرولسٹیشنز پر طویل قطاریں لگ گئیں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی۔ صورتحال کے باعث حکام کو صوبے میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے بعض پٹرول سٹیشنز پر منصوبے کی مقررہ حدود سے زیادہ پٹرول حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنا پڑی۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں تجاویز میں سے کسی پر بھی ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق اگر ان میں سے کوئی منصوبہ منظور ہوا تو اس کی تفصیلات عمل درآمد سے چند ہفتے قبل عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے معاشی مسائل مزید سنگین ہوگئے ۔ تیل کی آمدنی میں کمی اور جنگ کے دوران صنعتی تنصیبات اور فیکٹریوں کی تباہی نے ملکی معیشت پر شدید دبا ؤڈال دیا ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلا رکھی ہے جبکہ سامراجی طاقتوں کی پشت پناہی سے اسرائیلی تخریب کاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ عوامی اتحاد اور مزاحمت کے ذریعے موجودہ مشکلات پر قابو پالیں گے ۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ایرانی صدر نے بچوں کی علمی پیشرفت اور ان کا مستقبل سنوارنے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اخراجات میں اضافہ اور حکومت کی آمدنی میں کمی ہے ۔ ان کے مطابق تیل کی فروخت میں کمی کے باعث ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے ۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں ایران اپنی ضرورت کی درآمدی اشیا نسبتا براہ راست راستوں سے حاصل کرتا تھا، لیکن اب مختلف متبادل راستوں سے سامان ملک میں پہنچ رہا ہے ، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا کی حتمی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلا رکھی ہے جبکہ سامراجی طاقتوں کی پشت پناہی سے اسرائیلی تخریب کاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل عالمی طاقتوں کی حمایت سے خطے میں بدامنی پھیلا رہا ہے ، تاہم عوامی اتحاد اور مزاحمت کے ذریعے موجودہ مشکلات پر قابو پالیں گے ۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت کو رہبر انقلاب مجتبیٰ خامنہ ای کی بھرپور رہنمائی حاصل ہے ، دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ ماہرین کی مشاورت سے معاہدہ کیا۔ایرانی صدر کے مطابق امریکا کے ساتھ معاہدہ قومی وقار اور رہبر معظم کے اصولوں کے تحت طے پایا، جبکہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ایرانی صدر نے بچوں کی علمی پیشرفت اور ان کا مستقبل سنوارنے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ارد گان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہے ۔ترک صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان لفظی گولہ باری جاری ہے ۔اردوغان نے الجزیرہ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کے حالیہ دورے کے دوران ان کے ساتھ لبنان کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی ضرورت اور اس سلسلے میں واشنگٹن کے اہم کردار پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔انھوں نے ترکیہ ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مستقبل میں مصر سمیت دیگر ممالک کے بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا امکان ہے ۔ایران کی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے کہا ہے کہ فوج نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت جو کوئی بھی کسی امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا یا اسے گرفتار کر کے حوالے کرے گا، اسے 30 ہزار ڈالر یا پانچ ارب تومان کے مساوی تحفہ دیا جائے گا۔اتوار کو تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے انعامی رقم مردوں کے مقابلے میں دگنی، یعنی 60 ہزار ڈالر ہوگی۔ایرانی فوجی کمانڈر نے مزید کہا کہ جو شخص کسی امریکی جارح کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگا، اس کا ہتھیار دگنی قیمت پر خریدا جائے گا اور اسے نیا ہتھیار فراہم کیا جائے گا۔ اس شخص کے ہتھیار کو ایک مخصوص میوزیم میں بھی رکھا جائے گا۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مکمل شکست تک ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔ایرانی مسلح افواج کے مطابق مزاحمت کی میراث ایران کی نئی نسل میں منتقل ہو چکی ہے ، جو دنیا کی طاقتور فوج کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہی۔ایرانی جنرل سٹاف کا کہنا ہے کہ دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک ایران اپنے جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھے گا، جبکہ امریکا خطے پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے ۔بقائی نے ایک بیان میں لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مسلسل خاموشی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ایران نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے تین ایرانی پائلٹوں سے متعلق حقائق جاننے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ۔ ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقر زادہ کے مطابق ایرانی فضائیہ کے ماہرین کئی ماہ سے قطر جانے اور جائے وقوعہ پر تحقیقات کے منتظر ہیں، تاہم قطری حکام کی مسلسل تاخیر کے باعث پائلٹوں کی وطن واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔

ایران نے کہا ہے کہ قطر اس کے تین لاپتا پائلٹس سے متعلق معلومات کے لیے ایرانی ایئر فورس کے ماہرین کی ٹیم کو قطر آنے کی اجازت دے ۔ اس سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس مارچ میں قطر میں امریکی اڈے پر حملے کے دوران نشانہ بننے والے اس کے تین پائلٹ قطر کی تحویل میں ہیں۔قطر نے اس کی تردید کی تھی جس کے بعد اتوار کو ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے پھر مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی فضائیہ کی ٹیم کو قطر جانے کی اجازت دی جائے ۔سعودی جازان میں ممکنہ خطرے کا الرٹ، شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایتریاض: سعودی عرب کی سول ڈیفنس ایجنسی نے یمن کی سرحد سے متصل جنوبی صوبے جازان میں ‘‘ممکنہ خطرے ’’ کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا۔ سعودی حکام کے مطابق نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے جازان کے شہریوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ سول ڈیفنس ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے الرٹ عموماً کسی علاقے کو ممکنہ حملے کا نشانہ بنائے جانے سے قبل جاری کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی باغیوں کی جانب سے حالیہ عرصے میں سعودی عرب کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ایران اورعمان نے آبنائے ہرمزمیں جہازرانی کے راستے کے نقشے پر اتفاق کرلیا،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں، بات چیت جاری ہے اور فریقین پیشرفت کررہے ہیں، آبنائے ہرمزمیں عدم استحکام کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ امریکا اوراسرائیل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...