قانون کی حکمرانی کیلئے مقننہ، انتظامیہ ، عدلیہ ناگزیر :چیف جسٹس

قانون کی حکمرانی کیلئے مقننہ، انتظامیہ ، عدلیہ ناگزیر :چیف جسٹس

اپنے آئینی دائرہ کارمیں رہناضروری،خواتین سہولت مراکز پر خصوصی توجہ دی جا رہی جسٹس یحییٰ آفریدی کی سول سروسز اکیڈمی لاہور کے زیر تربیت افسران کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد (اے پی پی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا اپنے اپنے آئینی کردار کے مطابق کام کرنا ناگزیر ہے ۔ یہ بات انہوں نے سول سروسز اکیڈمی لاہور میں 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی)کے زیر تربیت افسران کے وفد سے سپریم کورٹ میں ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ نے کی جبکہ فیکلٹی ارکان بھی وفد کے ہمراہ تھے ۔ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے پارلیمانی جمہوریت اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالی اور آئینی حکمرانی و قانون کی حکمرانی کے قیام میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے باہمی تکمیلی کردار کی وضاحت کی۔چیف جسٹس نے بتایا کہ 27 ۔ 2026 کو صنفی لحاظ سے حساس انصاف کے اقدام کے سال کے طور پر مختص کیا گیا ہے ، جس کے تحت خواتین کی سہولت کے مراکز کے قیام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...