وزیراعظم کا اپوزیشن لیڈر کو جوابی خط، الیکشن کمیشن میں تقرریوں کی یقین دہانی
آئینی طریقہ کار پر عمل کیا جائیگا:شہباز شریف ، محمود اچکزئی اسلام آباد پہنچ گئے ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ناصر عباس کو اعتماد میں لیا ، پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرینگے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور 2ارکان کی مدت مکمل،26ویں آئینی ترمیم کے تحت نئی تقرری تک عہدے پر برقرار، نئے ناموں پر اتفاق نہ ہونے پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کریگی
اسلام آباد(یاسر ملک،خصوصی نیوز رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان الیکشن کمیشن پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کے معاملے پر رابطہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے محمود اچکزئی کے خط کا جواب بھجوا دیا ہے جو انہیں موصول ہوگیا ہے، خط میں ان تمام ارکان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ محمود خان اچکزئی کوئٹہ سے اسلام آباد پہنچ گئے اور انہوں نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیا۔ محمود خان اچکزئی تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان کی تقرری کے لئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ضروری ہوتی ہے ۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کسی نام پر اتفاق کی صورت میں مجوزہ نام پارلیمانی کمیٹی کو منظوری کے لئے بھجوائے جاتے ہیں، تاہم اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں دونوں جانب سے ہر عہدے کے لئے تین، تین نام پارلیمانی کمیٹی کو د ئیے جاتے ہیں جو حتمی فیصلہ کرتی ہے ۔موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، سندھ سے الیکشن کمیشن کے رکن نثار درانی اور بلوچستان سے رکن شاہ محمد جتوئی کی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو مکمل ہوگئی تھی۔
جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 215 (4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری 45 روز کے اندر مکمل ہونا تھی، تاہم 12 مارچ 2025 کو آئینی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود ان تینوں عہدوں پر نئے ارکان کی تقرری نہیں کی گئی،گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی 26 ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کو نئے اراکین کی تقرری تک اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لئے لازم قرار دی گئی شرائط میں سابق سپریم کورٹ ججز، ٹیکنوکریٹس اور 68 سال سے کم عمر بیوروکریٹس اہل ہوتے ہیں، اسی طرح الیکشن کمیشن کے ممبران کے لئے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججز، بیوروکریٹس اور 65 سال سے کم عمر ٹیکنوکریٹس کے نام زیرِ غور لائے جا سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments