پاکستان میں کرپٹو قانونی، 4 کروڑ صارفین : بلال بن ثاقب

 پاکستان میں کرپٹو قانونی، 4 کروڑ صارفین : بلال بن ثاقب

کرپٹو سرمایہ کاری 250 ارب ڈالر، عالمی ایکسچینجز کی 70 درخواستیں مل چکی ہیں اووسیز پاکستانی ملکی کرنسی میں رقم بھیجیں ،اسٹیبل کوائن میں تبدیل کیا جاسکے گا

اسلام آباد (مدثر علی رانا) چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان میں کرپٹو قانونی ہے جبکہ کرپٹو اثاثے ڈکلیئر کرنے کے لیے جامع فریم ورک تیاری کے آخری مراحل میں ہے ۔ ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے صارفین کی تعداد تقریباً 4 کروڑ ہے جبکہ کرپٹو میں سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 250 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے۔ پاکستان کی سالانہ تقریباً 41 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کو موجودہ نظام کے مقابلے میں زیادہ تیز اور کم لاگت بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ترسیلات زر بھیجنے کی موجودہ لاگت تقریباً 6.3 فیصد ہے جسے کم کرکے تقریباً ایک فیصد تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی وارا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان مل کر ایسا میکنزم وضع کر رہے ہیں جس سے رقم وصول کنندہ تک چند منٹوں میں پہنچائی جا سکے گی، بلال بن ثاقب کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک سینڈ باکس قائم کرنا ضروری ہوگا تاکہ نئے نظام کو عملی طور پر آزمایا اور اس کی نگرانی کی جا سکے ۔ اس کے بعد اسٹیبل کوائن کے ذریعے ترسیلات زر کے لین دین کو ممکن بنانے پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے ملک کی مقامی کرنسی میں رقم بھیجیں گے جسے نظام کے تحت اسٹیبل کوائن میں تبدیل کیا جا سکے گا اور پاکستان میں وصول کنندہ کو رقم فوری طور پر موصول ہو سکے گی۔بلال بن ثاقب نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان میں کام کرنے کے لیے بڑے عالمی کرپٹو ایکسچینجز کی جانب سے تقریباً 70 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...