پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، حکومت پریشان، پسِ پردہ رابطے جاری
جماعت اسلامی کیلئے حکومت کی الگ حکمت عملی، پٹرولیم لیوی میں کمی متوقع
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی جانب سے اپنے اپنے مطالبات کے حق میں حکومت پر دباؤ کیلئے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریاں ظاہر کر رہی ہیں کہ آنے والے چند روز سیاسی محاذ خصوصاً اسلام آباد کے حوالہ سے ہنگامہ خیز ہوں گے ، یہی وجہ ہے حکومت کے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ،ملک بھر سے پی ٹی آئی کے متحرک افراد کی گرفتاریاں اور نظر بندیاں عمل میں آ رہی ہیں، ا لبتہ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت کی پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی دونوں کے احتجاجی مارچ کے حوالہ سے حکمت عملی الگ الگ ہے ، جماعت اسلامی کے احتجاج اور لانگ مارچ بارے حکومت کو زیادہ پریشانی نہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ذمہ داران کے تندو تیز بیانات نے حکومت کو غیر معمولی اقدامات پر مجبور کر دیا، لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ کیا حکومت اسلام آباد میں امن یقینی بنا پائے گی اور لانگ مارچ حکومت کو دباؤمیں لا پائے گا ؟، کیا اسلام آباد میں یقینی امن کیلئے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں؟۔
جہاں تک حکومت کے سکیورٹی اقدامات اور پکڑ دھکڑ کے عمل کا سوال ہے تو حکومت لانگ مارچ کو امن و امان اور ریاستی کنٹرول کیلئے ممکنہ چیلنج تصور کر رہی ہے اور وہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ سے پریشان ہے ، البتہ جماعت اسلامی کے حوالہ سے اس کی پالیسی مختلف ہے ، پی ٹی ا ٓئی کیلئے اسلام آباد کا لانگ مارچ محض احتجاج نہیں بلکہ سیاسی طاقت کا اظہار ہے ۔ ماہرین ابھی سے ہی امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کے 20ستمبرکے احتجاجی مارچ سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی ممکن ہو سکتی ہے جبکہ پی ٹی آئی کا احتجاج حکومت کیلئے اس لئے پریشان کن ہے کہ اس کے پیچھے پختونخوا حکومت اور خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سرگرم ہیں ،پی ٹی آئی کے احتجاجی عمل کو ریاست اب معمول کاعمل نہیں سمجھتی ، 9مئی 2023 اور 26نومبر 2024 کے واقعات کے بعد ریاست ان کے احتجاج کو ہضم کرنے کو تیار نظر نہیں آتی، 9مئی کے واقعات نے ریاست کو ان کے حوالہ سے الرٹ اور حساس بنا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی سے پس پردہ رابطوں میں بھی ہے اور انہیں ایسی کسی صورتحال سے باز رکھنے کیلئے کوشاں ہے جس کے نتیجہ میں تناؤ یا ٹکراؤ پیدا ہو۔
فی الحال سب کی نظریں اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ عدلیہ اس بحران کے خاتمہ کیلئے کیا راستہ تجویز کرتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مسئلہ صرف لانگ مارچ نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن میں اعتماد کا فقدان ہے ،اصل امتحان حکومت کا ہے ، اگر وہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج کو صرف انتظامی مسئلہ سمجھنے لگی تو اس سے سیاسی کشیدگی بڑھے گی اور اگر مذاکرات کے آپشن کو بروئے کار لایا جاتا ہے تو سیاسی راستے بھی کھلیں گے اور لانگ مارچ کا دباؤ بھی کم ہوگا ۔واقفان حال تو کہتے نظر آ رہے ہیں کہ پس پردہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سے روابط کا سلسلہ جاری ہے اور امکانات ہیں کہ نوبت لانگ مارچ تک نہ پہنچے ، بصورت دیگرسیاسی محاذ پر تناؤ جاری رہ سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments