لانگ مارچ:شہری حقوق کی خلاف ورزی،آئین شکنی:اسلام آباد ہائیکورٹ:ہر ممکن طریقے سے روکیں گے:محسن نقوی

لانگ  مارچ:شہری  حقوق  کی  خلاف  ورزی،آئین  شکنی:اسلام  آباد  ہائیکورٹ:ہر  ممکن  طریقے  سے  روکیں  گے:محسن  نقوی

شاہراہیں دھرنے کیلئے نہیں، پرامن احتجاج آئینی حق، شہری حقوق کی معطلی حق نہیں، سرکاری عہدیدار کی وجہ سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو حلف کی خلاف ورزی سیاسی جماعت کی عدالتی احکامات نظرانداز کرنے کی تاریخ ،بانی پی ٹی آئی نے خودسپریم کورٹ میں دی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی:37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ ایک خاص قبیلے کے آنے کا ذکر ہورہا ،جوانوں کو کہہ دیاوہ گولی چلائیں تو چپ نہ رہیں،ہم نے تیاری کر لی،آگاہ کررہے ہیں،پھر کوئی گلہ نہ کرے :وزیر داخلہ،پریس کانفرنس

اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کیخلاف درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 37 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمی جس سے اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی  ہو وہ آئین شکنی تصور ہوگی،ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا،سرکاری عہدیدار کی وجہ سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو اسے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا،آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا ۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی بنچ کی جانب سے جاری فیصلہ میں کہاگیا کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن اجتماع اور سیاسی اختلاف کا آئینی حق حاصل ہے ،شہریوں کے جان، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت اور کاروبار کے حقوق بھی آئینی ہیں،سیاسی احتجاج کے حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق میں آئینی توازن ضر وری ہے ،سیاسی جماعت کا احتجاج کا حق آئین اور قانون کے تابع ہے ،سوال یہ بھی ہے ہائیکورٹ قبل از وقت سیاسی احتجاج کے معاملے میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے ؟ عدالت نے کہاکہ اسلام آباد میں آئینی اداروں کے معمول کے کام کا تسلسل بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

شہریوں کو ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں تک رسائی کا حق حاصل ہے ،آئین کا آرٹیکل 15 شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے ،آرٹیکل 16 کے تحت شہریوں کو پرامن اور بغیر اسلحہ اجتماع کا حق بھی حاصل ہے ،اجتماع پر پابندی صرف قانون کے تحت اور مفادِ عامہ میں معقول حد تک عائد کی جا سکتی ہے ،آزادیِ اجتماع پر پابندیاں عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں قانون کے تحت عائد کی جا سکتی ہیں۔ فیصلہ میں مزید کہاگیاہے کہ 2022 اور 2024 کے احتجاجی مناظر تشدد اور جارحیت کے عکاس تھے ،ماضی کے مارچ میں خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کئے گئے ،صوبائی وسائل اور پولیس کی موجودگی نے اسلام آباد انتظامیہ کیلئے صورتحال پر قابو پانا انتہائی مشکل بنا دیا،ماضی کے مارچ میں مسلح افراد صوبائی پولیس کی معیت میں اسلام آباد کی طرف بڑھے ،ایسے مارچ کے نتیجے میں اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں رہتا،کسی صوبائی اکائی کے وفاق کے خلاف مارچ، ریلی یا جلوس کی صورت میں جارحیت غیرآئینی اور غیرقانونی ہے ،ایسے غیرقانونی مارچ یا ریلی کو منظم کرنے ، اس میں شریک ہونے یا اس کی تشہیر کرنے والوں کو قانونی نتائج کا سامنا ہوگا،2022 اور 2024 کے احتجاج نے وفاقی دارالحکومت میں سنگین سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پیدا کی ، تعلیمی سرگرمیاں متاثر اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت محدود ہوئی،احتجاج کا حق موجود ہے۔

مگر اسے تشدد، اسلحہ، سڑکوں کی بندش یا شہریوں کے حقوق کی پامالی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،عوامی شاہراہیں سیاسی دباؤ یا مستقل دھرنے کے لیے نہیں، بلکہ تمام شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے ہیں،کسی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی طرف جانے والی شاہراہیں، انٹرچینجز یا عوامی مقامات بند کرنے کا قانونی حق نہیں،اسلام آباد کی طرف کسی سیاسی مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیاں، مشینری یا سرکاری اہلکار استعمال نہیں کیے جا سکتے ،پرامن احتجاج آئینی حق، مسلح یا سرکاری وسائل سے چلنے والا مارچ آئینی تحفظ نہیں رکھتا،اسلام آباد پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے شہری زندگی، کاروبار، تعلیم اور نقل و حرکت متاثر کرنا حقِ احتجاج کے دائرے میں نہیں آتا،لانگ مارچ کا حق قانون کے تابع ہے ، وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ یا شہری حقوق کی معطلی آئینی حق نہیں، فیصلہ میں پی ٹی آئی کی گزشتہ یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا بھی ذکرکرتے ہوئے مزید کہاگیاہے کہ یہ قابل افسوس ہے کہ یقین دہانیاں اور عدالتی ہدایات نظر انداز کی جاتی رہیں،سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کی بانی پی ٹی آئی نے خود خلاف ورزی کی،نومبر 2024 کے احتجاج میں ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ جاری کیا، عمل نہ ہوا،عدالت کے سامنے موجود کیس قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں،سیاسی جماعت کی عدالتی احکامات اور یقین دہانیاں نظرانداز کرنے کی تاریخ ہے ۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے 14 ستمبر کو مختصر فیصلہ سنایا تھا۔

 اسلام آباد (خصوصی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت وفاقی دارالحکومت پر دھاوا نہیں بولاجاسکتا، ہم نے ان سے نمٹنے کیلئے تیاری پوری کرلی ہے ،فورسز کو بتادیا ہے ان کو ہر ممکن طریقے سے روکیں ،پہلے سے آگا ہ کر رہے ہیں تاکہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے اور بعد میں کوئی گلہ نہ کرے ۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چو دھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کسی نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرینگے ، کوہاٹ میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے ، آپ کو زیب نہیں دیتا کہ ایک طرف شہدا کے جنازے اٹھائیں اور دوسری طرف دھرنوں کی تیاری کریں ، جوانوں کو کہہ دیا ہے اب ایسا نہیں کہ وہ گولی چلائیں اورآپ چپ بیٹھے رہیں ،انہوں نے کہا اگر آپ کو احتجاج کرنا ہے تواپنے علاقے اورشہرمیں کریں، سیاسی جلسے جلوس اور جتھوں کی یلغار میں فرق ہوتا ہے ، اپوزیشن رہنماؤں کو کہتا ہوں کہ لڑائی جھگڑے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ان کا اور ملک کا نقصان ہو گا ، ہم ماضی کی طرح بد امنی نہیں پھیلانے دینگے ، کوشش ہوگی اسلام آباد کے شہریوں کو کم سے کم زحمت اٹھانا پڑے ، اسلام آباد کو بند کرنا یا احتجاج کے نام پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، احتجاج، لوگوں کو جمع کرنے یا چندہ جمع کرنے کے بجائے توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پر ہونی چاہیے ،وزیراعلیٰ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اتنی تیاری کریں جتنی دھرنے کیلئے کر رہے ہیں تو دہشتگردی کافی حد تک کم ہوجائے ،انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک خاص قبیلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ اسلام آباد آئے گا، ماضی میں ہمارا بہت نقصان ہوا اور اسلحے کا استعمال کیا گیا، اس احتجاج میں کسی کی جان جاتی ہے تو ذمہ دار جتھے لانے والے ہوں گے ،تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہماری تیاری پوری ہے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی پارٹی کے اندر سروے کرالے تو اکثریت کو پتا نہیں ہوگا کہ کیوں اسلام آباد آرہے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا میں ذاتی طور پر کنٹینرز لگانے کیخلاف ہوں، لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کہتی ہیں کہ کنٹینرز لگانے ہیں تو لگانا پڑتے ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم متعدد مرتبہ پارلیمنٹ میں مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں اور حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے ، سیاسی سرگرمی اور ہوتی ہے ، جتھوں کی صورت اور مسلح آنا اور بات ہے ، وزارت داخلہ کا کام ہے کہ جتھوں کو روکے ۔

اپوزیشن میں بہت سے سمجھدار لیڈر ہیں، امید ہے وہ اب بھی اس پر سوچیں گے ، احتجاج کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے ،اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد منظور احمد ججہ نے کہا کہ اس طرح کے احتجاج سے اسلام آباد میں سکول اور بازار بند اور ہم دنیا سے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے کی سنگینی مدنظر رکھتے ہوئے لارجر بینچ بنایا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری مشینری اور افسروں کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکا ہے ، تمام چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو ہدایات دے دی گئی ہیں،انہوں نے کہا کہ جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرے گا اس پر آرٹیکل 5 لگے گا۔ حلف کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 5 سے بھی آگے کارروائی ہوسکتی ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر کارروائی ہوگی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ اپنا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کراچکی ہے اور معاملہ اس وقت عدالت کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھی عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے فکرمند ہے ، تاہم سکیورٹی سے متعلق وجوہات بھی عدالت کو بتائی گئی ہیں اور اب اس معاملے پر فیصلہ عدالت کرے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...