یمنی افواج،حوثی جھڑپیں، 68ہلاک، ایران کا ٹینکر پر حملہ

یمنی افواج،حوثی جھڑپیں، 68ہلاک، ایران کا ٹینکر پر حملہ

اٹلی باب المندب میں جنگی جہاز تعینات کریگا ، سعودی برآمدات متاثر

صنعا، تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز اور لحج میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں اور جھڑپوں میں 23 سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔جبکہ حوثی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں ان کے 40 جنگجو ہلاک ہوئے ، یہ اعداد دونوں فریقوں کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔ اٹلی کی وزارت دفاع نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ سعودی عرب کے ایک فوجی اڈے پر ہونے والے فضائی حملوں کے دوران اطالوی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارے کو شدید نقصان ہوا ہے ۔ وزارت کے مطابق جب حملہ ہوا تو اس وقت یورو فائٹر ایف-2000 طیارہ سعودی عرب کے شہر طائف میں واقع ایک فوجی اڈے کے ایک دور دراز حصے میں کھڑا تھا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔باب المندب آبنائے کے راستے سعودی عرب کی برآمدات بدستور متاثر ہیں اور اعداد و شمار کے مطابق اگست کے آغاز سے اس راستے پر ہفتہ وار سعودی بحری ٹریفک رواں سال کی یومیہ اوسط کے ایک تہائی سے بھی کم رہی ہے ۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی ‘‘کپلر’’ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران صرف 5 بحری جہاز سعودی مصنوعات لے کر بحیرہ احمر سے باب المندب کے راستے باہر نکلے ۔ یہ تعداد 24 جولائی والے ہفتے کے بعد سب سے زیادہ ہے ، جب 11 سعودی مصنوعات سے لدے بحری جہاز آبنائے سے گزرے تھے ۔سعودی برآمدات کے علاوہ باب المندب کے راستے بحیرہ احمر سے جانے والی خام تیل کی برآمدات بھی معمول سے کم رہی ہیں۔ گزشتہ سات روز کے دوران خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت اوسط سے کم رہی۔ 11 ستمبر سے روزانہ تقریباً 34 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا گیا، جبکہ یکم جنوری سے یومیہ اوسط تقریباً 44 لاکھ بیرل رہی ہے ۔کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران باب المندب سے اجناس لے جانے والے ٹینکروں کی آمدورفت معمول سے کم رہی، تاہم مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ گزشتہ ہفتے روزانہ دونوں سمتوں میں تقریباً 24 بحری جہاز آبنائے سے گزرے ، جبکہ جنوری سے اب تک یومیہ اوسط 31 بحری جہاز رہی ہے ۔عرب ممالک اور یورپی یونین نے حوثی باغیوں کے حملوں پر سعودی حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔

اردن اور کویت نے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کیا اور ملک کی سلامتی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے حوثیوں کے بار بار حملوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان انور العنونی نے کہا شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور حوثیوں سے تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ادھر ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ٹوگو کے پرچم تلے سفر کرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تیل بردار جہاز ٹرینڈ کواس وقت نشانہ بنایا گیا اور حراست میں لے لیا گیا جب جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کے بعد کی گئی۔برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی ، ایک نامعلوم شے کے ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد اس میں آگ لگ گئی تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا اور جہاز کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ایرانی رہبرِ انقلاب کے سیاسی مشیر باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اقتدار میں ہیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ اپنے بحری جہازوں اور تیل کی سپلائی لائنوں کے تحفظ کے لیے خلیج عدن میں موجود اپنی بحری فورس کے دائرہ کار کو بڑھانے پر غور کر رہا ہے ، لیکن وہ ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست مداخلت یا فوجی دستے بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔جنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ نے کہا کہ ملک کی معیشت اور بحری تجارت کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں، تاہم ایسی کوئی فوجی تعیناتی نہیں کی جائے گی جو جنگ میں شمولیت یا مداخلت کے مترادف ہو۔دریں اثنا اٹلی باب المندب میں حفاظت کے لیے جنگی جہاز تعینات کرے گا، اٹلی کے وزیرِ دفاع گائیڈو کروزیتو نے کہا ہے کہ اٹلی آبنائے باب المندب سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کے لیے جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اٹلی اس معاملے میں یورپی یونین کے مشترکہ فیصلے کا انتظار نہیں کرے گا، اگر یہ اہم بحری راستہ ناقابلِ گزر ہو گیا تو اس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا میناب کے ایک سکول اور لامرد کے ایک سپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملے آپریشنل غلطیاں نہیں بلکہ واضح جنگی جرائم تھے ، ان جنگی جرائم پر امریکا اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکے گا۔خیال رہے اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں ایران کے ایک سکول اور ایک سپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملوں کو جنگی جرائم قرار دینے کیلئے معقول بنیاد قرار دینے کی بات کی ہے ، تاہم وائٹ ہاؤس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیاہے ، وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ موجودہ تنازع میں ایران واحد فریق ہے جس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے دستبردار ہو چکی ہے ، اور اسی لیے ہم اس رپورٹ کے نتائج کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کسی ڈیل کے ذریعے ہویا نہیں مگر ایران کے خلاف اس جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی۔ ایران سے ڈیل ہونے یا علاقے میں مزید فوج بھیجی جانے سے متعلق استفسار پر انہوں نے کہا کہ ہم یا تو کوئی اچھا معاہدہ کریں گے ، یا پھر کوئی معاہدہ کریں گے ہی نہیں، ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے لیکن میرے خیال میں وہ ابھی تیار نہیں ہیں، انہوں نے کہا امریکا آبنائے ہرمز سے جہاز رات کو نکالتا ہے کیونکہ ایران کو پتہ ہی نہیں چلتا، ایران کے ریڈار تباہ کیے جاچکے ہیں۔امریکا نے تہران کی جوہری میزائل بنانے کی صلاحیت ختم کر دی ہے ، اگر امریکا نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران نیوکلیئر بم بنانے میں کامیاب ہو جاتا، ایران بڑی آسانی سے جوہری ہتھیار استعمال کر لیتا۔ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے ، آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران میں مہنگائی 300 فیصد ہے ، معیشت ایسے درجے پر ہے جو ایران نے کبھی دیکھی نہیں تھی۔کسی ڈیل کے ذریعے ہو یا نہیں مگر اس جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اولین ترجیح ایرانی حکومت کو شکست دینا اور اسے گرانا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ایرانی حکومت کو شکست دیں گے ، ہم اس کا تختہ الٹ دیں گے ، یہ حکومت گر جائے گی پھر ہم حزب اللہ سے بھی نمٹیں گے اور وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا پوری ایرانی قوم کی معاشی زندگی کو نشانہ بنا رہا ہے ، ایرانی عوام کو شدید معاشی نقصان پہنچانے کے لیے ایران پر اقتصادی جنگ مسلط کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا امریکی پابندیوں کا بیانیہ اتنا کمزور ہے کہ اس سے واشنگٹن کی سوچ عیاں ہوگئی ہے ۔ امریکا ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ شروع کرکے آج شرمندگی سے دوچار ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے والا یک طرفہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...