سول سروس اصلاحات، 46 میں سے 43 سفارشات پر اتفاق
انگریزی زبان کی غیر ضروری رکاوٹ کا خاتمہ،اے آئی استعمال سمیت 5 بنیادی اصول
اسلام آباد(اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت سول سروس اصلاحات کے حوالے سے کثیر الجماعتی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں سیاسی رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور مختلف شعبوں سے وابستہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پاکستان میں خصوصی مہارت، میرٹ اور احتساب پر مبنی سول سروس کے قیام کے لیے وسیع تر سیاسی و ادارہ جاتی اتفاق رائے پیدا کرنے پر غور کیا۔وفاقی وزیر نے کہا وزیراعظم کی کمیٹی نے 46 اہم سفارشات مرتب کی ہیں، جن میں سے 43 پر مکمل اتفاقِ رائے قائم ہو چکا ہے۔
انگریز کے دور کا نوآبادیاتی انتظامی نظام جو صرف قانون کی پاسداری اور ٹیکس وصولی کے لیے بنا تھا، موجودہ دور کے جدید معاشی، تکنیکی اور سماجی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا۔ہماری مجوزہ اصلاحات پانچ بنیادی اصولوں پر مبنی ہیں۔ پہلا، روایتی جنرل کیڈر کے بجائے تعلیم، صحت، مالیات، آئی ٹی اور زراعت جیسے شعبوں میں متعلقہ تعلیمی پس منظر کے مطابق پیشہ ورانہ بھرتی۔ دوسرا، عہدوں اور ترقیوں کو محض سینیارٹی کے بجائے قابلیت سے مشروط کرنا۔
تیسرا، کارکردگی کو ناپنے کے لیے واضح کے پی آئی کا نظام اور جوابدہی۔ چوتھا، انگریزی زبان کی غیر ضروری رکاوٹ ختم کر کے تمام باصلاحیت نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنا۔ اور پانچواں، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سسٹمز کا استعمال تاکہ عوام کو خدمات کی فراہمی تیز اور شفاف بنائی جا سکے ۔آسٹریلیا، ملائیشیا اور برطانیہ کے بہترین ماڈلز کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ہمارا مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا اثاثہ ہو۔ ایک مضبوط اور باصلاحیت سول سروس ہی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments