خوردنی تیل ٹینکراونرز یونین پرمسابقتی قوانین کی خلاف ورزی ثابت
ترسیلی کرایوں کے اجتماعی تعین، کاروباری تقسیم پر6 کروڑ جرمانہ،2362 ٹینکرزرجسٹرڈ بندرگاہوں پر 300تک آتے ، مسابقتی کمیشن کاکاروبار تقسیم کا نظام فوری ختم کرنے کا حکم
اسلام آباد،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ،کامرس رپورٹر)مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) کی مارکیٹ انٹیلی جنس تحقیقات میں آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایوں کے اجتماعی تعین اور کاروبار کی تقسیم کے ذریعے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی، سی سی پی نے ایسوسی ایشن پر مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کرایوں کے اجتماعی تعین اور پرچی و باری کے ذریعے کاروبار تقسیم کرنے کا نظام فوری ختم کرنے کا حکم دیدیا۔ سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن نے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے ٹرانسپورٹ کرائے اجتماعی طور پر طے کیے جبکہ ٹینکرز کو آزادانہ مسابقت کے بجائے پرچی اور باری کے نظام کے تحت کاروبار فراہم کیا جاتا تھا۔
کرایوں کے اجتماعی تعین پر 3 کروڑ جبکہ کاروبار کی تقسیم کے طریقہ کار پر مزید 3 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایسوسی ایشن کے تقریباً 2362 ٹینکرز اور 1700 مالکان رجسٹرڈ تھے جبکہ روزانہ 250 سے 300 ایسوسی ایشن کے ٹینکرز بندرگاہوں پر آتے تھے ۔اسکے مقابلے میں این ایل سی کے 50 سے 60 ٹینکرز موجود تھے ، جس کے باعث ایسوسی ایشن کا مارکیٹ حصہ تقریباً 83 فیصد بنتا تھا،سی سی پی کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کا معاہدہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اور پاکستان وبناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان 2011 میں ہوا تھا جسے 2022 میں اپڈیٹ کیا گیا،ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی کرائے باہمی معاہدے کے تحت طے ہونے کا اعتراف کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments