جج کے عہدے کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا:چیف جسٹس عالیہ نیلم
غلط فیصلہ کر نیوالے اللہ کو جوابدہ ،جج کو منصب کا نشہ دماغ میں نہیں بٹھانا چاہیے جج کو ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے :خطاب،41ججز کی پری سروس ٹریننگ مکمل
لاہور( محمد اشفاق)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ جج کے عہدے کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا،غلط فیصلہ کر نیوالے جج اللہ کو جوابدہ ،جج کو منصب کا نشہ دماغ میں نہیں بٹھانا چاہیے ،وہ جوڈیشل اکیڈمی میں پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے 41 ججز کی پری سروس ٹریننگ مکمل ہونے پر اختتامی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ جج ایک عام فرد نہیں ہوتا، اسے اپنے منصب کی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور شائستگی کا رویہ اپنانا چاہیے ۔ جج کا عہدہ ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا ،اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینے چاہئیں، غلط فیصلے کرنے والے ججز اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔
جج کا قلم ہمیشہ چلتا ہے ، لیکن قلم جج کے دماغ کو کہاں لے کر جاتا ہے ، صرف جج کو ہی اس کا علم ہوتا ہے ۔ جج کو اپنے منصب کا نشہ دماغ میں نہیں بٹھانا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جج کی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے وہ اپنے فیصلوں کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے ، اس لیے عدالتی فرائض انتہائی ذمہ داری اور دیانت داری سے ادا کیے جانے چاہئیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ہمارا ایک اچھا فیصلہ 70 ہزار سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے ۔ ہر کسی کو یہ اعتماد حاصل ہونا چاہیے کہ پنجاب جوڈیشری اچھا کام کر رہی ہے ،تقریب میں سینئر جج جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی نے بھی شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments