کوئی پرتشدد جتھہ اسلام آباد نہیں آئیگا، راستے کھلے ہونگے :عطا تارڑ
حکومت انتظامیہ، پولیس، وزیر داخلہ کلیئر ، عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائینگے
اسلام آباد (دنیا نیوز ،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ کوئی پرتشدد جتھہ اسلام آباد نہیں آئے گا،انتظامیہ، پولیس، وزیر داخلہ، پوری حکومت مکمل کلیئر ہے ،راستے کھلے ہوں گے ،وفاقی وزیراطلاعات نے پریس کانفر ننس کرتے ہوئے کہا اسلام آبادہائیکورٹ نے سڑکیں بندکرنا،عوام کی آمدورفت میں خلل ڈالنا مکمل طور پر رول آؤٹ کردیا ،اب حکومت،انتظامیہ کاکام ہے وہ یقینی بنائے کہ کسی قسم کا خلل نہ آئے ۔ وزیراطلاعات نے کہا وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے ملک بھر میں خصوصی فیول ریلیف سکیم کااجراکردیاگیا ،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سکیم کا فائدہ اشرافیہ کے بجائے عام اور غریب آدمی تک پہنچنا چا ہئے ،انہوں نے مزیدکہاعوام کے مطالبے پرموٹرسائیکل کی اہلیت 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کردی گئی ہے ،ایس ایم ایس کی سہولت بھی مفت کردی گئی ،موٹرسائیکل اورچنگچی رکشہ سوارہفتے میں ایک بار اور ماہانہ چارمرتبہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے ، دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی منصوبہ بندی ریاست میں انارکی پیدا کرنا ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات سے ان کی اصل منصوبہ بندی کا اندازہ ہوتا ہے ، پرامن احتجاج کے لئے اس طرح کے بیانات نہیں د ئیے جاتے ۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو ان کے گھروں میں جلوس نکالے گئے ، اس کے باوجود کہا گیا کہ کچھ نہیں کیا، جنید اکبر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں ،اُن کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اس حوالے سے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے وفاقی دارالحکومت کو ‘‘سومنات’’ بنانے کی دھمکی دینے والے جنید اکبر خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام آباد کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، یہ پاکستان کا دارالحکومت اور 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے والا شہر ہے ۔ بیان میں انہوں نے کہا تحریک انصاف نے اپنی طرزِ سیاست اور حکمرانی سے خیبرپختونخوا کو جس بدامنی، بدانتظامی اور سیاسی انتشار سے دوچار کیا، اسے ‘‘سومنات’’ بنانے کی سیاست نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ اب اسلام آباد کے بارے میں ایسی زبان اور ایسے عزائم ناقابلِ قبول ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments