مذاکرات سے انکار نہیں ، اپوزیشن سنجیدگی دکھائے : وزیر قانون، 4 اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ ، پہلا مرحلہ صوابی : تحریک انصاف
پی ٹی آئی مذاکرات میں لیڈر کی رہائی چاہتی،رہائی کا فورم عدالت :اعظم نذیر تارڑ ،ہمارا مطالبہ بانی سے ملاقاتیں اور علاج :بیرسٹر گوہر، ایاز صادق کو فون،آج ملاقات متوقع صوابی میں ٹینٹ سٹی ، ضرورت پڑی تو بغاوت ہوگی،جو آپکے کندھوں پر آتے انکو ڈرائو، ہمیں نہیں، سہیل آفریدی، مارچ ملتوی کر دیں ،شوکت یوسفزئی کا بیرسٹر گوہر کو خط
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تحریک انصاف کو سنجیدہ مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا ہے ،اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں لیکن پی ٹی آئی مذاکرات میں اپنے لیڈر کی رہائی چاہتی ہے ، بار ہا بتاچکے اس کا فورم عدالت ہے ، حکومت نہیں۔انہوں نے کہا کہ قانونی اورآئینی طریقہ کار کے ہوتے ہوئے یہ چاہتے ہیں کہ جلسے جلوس اور شہروں پر چڑھائی کرکے بانی کی رہائی کروائی جائے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو نجی ہسپتا ل منتقل کرنے ،معائنے کا حکم دیا تھا وہ ہوگیا، اگر حکم پرعملدرآمد میں کوئی کمی بیشی ہے تو اسے عدالت کو دیکھنا ہے ، جلسے جلوس سے ایسا نہیں ہوگا،تحریک انصاف کو مذاکرات کیلئے کئی مواقع د ئیے گئے مگر چیزیں درست نہیں ہوئیں،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ماضی ان کے کردار کو جانچنے کیلئے کافی ہے ، اسلام آباد پر متعدد مرتبہ چڑھائی کی گئی، محفوظ دارالخلافہ حکومت کی ذمہ داری ہے ، ان کا احتجاج آئین کے مطابق نہیں ہے ، ملک آئین کے مطابق چلتاہے ۔ طاقت کے استعمال سے مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
پشاور ، راولپنڈی(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک )پی ٹی آئی نے 4اکتوبر کے لانگ مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے ،وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ہے لانگ مارچ ہرصورت ہوگا اور اب اس کا پہلا پڑائو صوابی میں ہوگا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کریں گے ، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں لانگ مارچ کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے ،ذرائع کے مطابق اجلاس آن لائن منعقد ہوا، بعض ارکان اسمبلی نے زوم کے ذریعے شرکت کی،ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے لانگ مارچ کی تیاریوں میں دلچسپی نہ لینے پر ناراضگی کا اظہار کیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق بھی ہیں۔ ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں جارہے ، ہم دو ہاتھ اور دو پاؤں لے کر جائیں گے ، غلیلیں اور لاٹھیاں لے کر جانے کے حوالے سے الزامات ہیں،ارکان اسمبلی کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز وزیراعلیٰ نے مسترد کردی اور کہا کہ کارکنوں میں مایوسی نہ پھیلائی جائے ، تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر نے ملک سے باہر موجود ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کو وطن واپسی کی ہدایت کردی،انہوں نے کہا کہ جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں نہیں ہوں گے۔
ان کا تحریک انصاف سے تعلق نہیں ہوگا، وہ کوئی دوسری پارٹی بنالیں۔سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ لانگ مارچ منظم اور پرامن ہوگا، مارچ کے شرکا کے لئے صوابی میں ٹینٹ سٹی قائم کیا جائے گا،انہوں نے کہا آگے کب اور کس وقت بڑھنا ہے ، ہدایات چین آف کمانڈ کے ذریعے پہنچائی جائیں گی،دریں اثنا پشاور میں سہیل آفریدی نے خواتین کے لئے پنک بس سروس کا افتتاح کر دیا ،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی نے کہا کہ 4اکتوبر کو لانگ مارچ لازمی ہوگا، کوئی دھمکی، بندوق یا ڈنڈا ہمیں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا، ہمارا مقصد بڑا ہے ، کرسی کی کوئی اہمیت نہیں، وزیراعلیٰ نے کہا ہم کبھی یہ نہیں کہیں گے ہمیں تین صوبوں سے خطرہ ہے اور نہ ہی ان کی طرح ڈان لیکس کریں گے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس کے جوان شہید ہوئے ، دہشت گردی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے لوگوں کا خون بہہ رہا ہے ،تین مسخرے ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے شہدا کی توہین کرتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا اس دفعہ بند کمروں کی پالیسی نہیں چلے گی، پالیسی تبدیل ہوگی تاکہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کا خون نہ بہے ، اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کریں گے ،انہوں نے کہا جو آپ کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آتے ہیں ان کو ڈرائو، ہمیں نہیں۔
ادھراڈیالہ جیل کے قریب ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ عمران خان سے ملاقاتیں اور ان کا علاج ہے ، انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک سال ہونے کو ہے عمران خان سے ملاقات نہیں ہورہی، فیملی سے ملاقات پر پابندی اور وکلا تک رسائی سے محرومی غیر انسانی سلوک ہے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں سے تمام معاملات بہتر ہوجائیں گے ،انہوں نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے ، دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج نہیں لگ سکتا، 4 اکتوبر کے مارچ کی کال فی الحال برقرار ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی خودمختاری پر کوئی ضرب نہیں آنی چاہئے ، اگر آج خیبرپختونخوا کی صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی تو کل پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی بھی ہوسکتی ہے ۔ دریں اثنا بیرسٹر گوہر نے سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان سے ملاقات کیلئے وقت مانگا ہے ،ذرائع کے مطابق سپیکر نے ان کو بتایا کہ میں لاہور میں اپنے حلقے میں مصروف ہوں آج واپس پہنچ جائوں گا۔ ذرائع کے مطابق ایاز صادق اور بیرسٹر گوہر کی ملاقات آٰج متوقع ہے ،علاوہ ازیں تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کیلئے پارٹی قیادت کو خط لکھ دیا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور دیگر کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کچھ ایشوز کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے ، افغانستان سے ممکنہ حملہ ایمرجنسی کا جواز بن سکتا ہے ،مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے پی حکومت پر تعاون نہ کرنے کا بیانیہ بنا رہی ہے ، صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے ، دہشتگردی کو سپورٹ کرنے کا الزام لگا کر پارٹی پر پابندی لگ سکتی ہے ، عمران خان نے بھی ماضی میں ورکرز کی جانوں کے تحفظ کیلئے لانگ مارچ ختم کیا تھا، میری گزارشات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments