یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ : آئی ایم ایف سے منظوری لی جائیگی ،1.2ارب ڈالرقرض قسط کیلئے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز
یکم جولائی سے 12سلیب کا نظام ختم، تمام صارفین 1708روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے یکساں اوسط ٹیرف پر منتقل ہونگے ، ریلیف کیلئے آمدن کو معیار بنایا جائیگا،معاونت کیلئے162ارب مختص کرنا ہونگے وزیرخزانہ اورنگزیب کی ورچوئل مذاکرات میں شرکت،زرعی آمدن ٹیکس کی وصولی اور ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف کے حصول سے متعلق سوالات اٹھادئیے گئے ،رواں سال کے اہداف کی وضاحت طلب
اسلام آباد (مدثرعلی رانا ،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزارتِ توانائی نے یکم جولائی 2027 سے ملک میں یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )سے منظوری لینے کا فیصلہ کرلیا ،اس مقصد کیلئے حکومت کو موجودہ کراس سبسڈی کا نظام ختم کرکے کم آمدن والے گھرانوں کیلئے ہدفی مالی معاونت کی خاطر تقریباً 162 ارب روپے مختص کرنا ہوں گے ، جبکہ 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے حصول کیلئے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت پاکستان میں رائج گیس کے 12 سلیب پر مشتمل ٹیرف نظام ختم کردیا جائے گا جس کے تحت صارفین ماہانہ گیس کی کھپت کے مطابق مختلف نرخ ادا کرتے ہیں، اس کے بجائے تمام صارفین کے زمروں کو بتدریج تقریباً 1,708 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے یکساں اوسط ٹیرف کی جانب منتقل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کم آمدن مستحق افراد کو گیس کے بجائے آمدنی کی بنیاد پر سبسڈی دینے ، گیس سبسڈی کا موجودہ نظام ختم کر کے آمدنی کو ریلیف کا معیار بنانے کی تجویز ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے کراس سبسڈی ختم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے ، گیس سبسڈی کو کھپت کے بجائے آمدنی سے منسلک کرنے کی تجویز ہے۔
گیس پر ریلیف حاصل کرنے کے لیے گھریلو آمدنی معیار بنے گی، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے صارفین کی مالی معاونت کی جائے گی۔موجودہ نظام میں کم استعمال کرنے والے صارفین انتہائی کم نرخ پرگیس حاصل کر رہے ہیں، پروٹیکڈ صارفین 200 سے 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک گیس استعمال کر رہے ہیں، کراس سبسڈی ختم کرنے کیلئے بجٹ میں 162 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ۔نئی پالیسی لاگو ہونے سے گھریلو صارفین کے نرخوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جبکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کیلئے گیس نرخوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے ۔ادھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا مشن پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چوتھے اورریزسٹنس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے کے لیے پاکستان کے دورے پرہے ، وزیرخزانہ اورنگزیب نے 1.2 ارب ڈالر قرض کی قسط کیلئے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ورچوئل مذاکرات میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق کِک آف اجلاس میں آئی ایم ایف مشن کی سربراہی آئیوا پیٹرووا نے کی، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف کے چوتھے جائزے پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن سے آر ایس ایف کے تیسرے جائزے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف وفد کو ملکی معاشی و اقتصادی صورتحال پر بریفنگ دی، وزیر خزانہ نے معاشی استحکام اور اصلاحات پر حکومت کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
اجلاس کے دوران آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقررہ اہداف اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ پاکستان کی معاشی کارکردگی، مالیاتی امور اور اصلاحاتی اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے حصول اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا، معیشت کے استحکام، محصولات میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن پاکستان کے معاشی و مالیاتی اقدامات پر حکام سے بات چیت جاری رکھے گا۔ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی جائزہ کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر جبکہ آر ایس ایف کے جائزے کے بعد تقریباً 20 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں، یوں مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مالیاتی اہداف اور ٹیکس وصولیوں کے جائزے کے دوران زرعی آمدن ٹیکس کی وصولی اور ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف کے حصول سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے گزشتہ مالی سال مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے پر تفصیلات طلب کی ہیں، جبکہ رواں مالی سال کے اہداف کے حصول کے حوالے سے بھی وضاحت مانگی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق زرعی آمدن ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کی گئی ہے ، تاہم گزشتہ مالی سال متعدد صوبے زرعی آمدن ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف حاصل نہیں کرسکے۔
ذرائع کے مطابق سندھ نے گزشتہ مالی سال 2 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 1.1 ارب روپے زرعی آمدن ٹیکس وصول کیا، جبکہ رواں مالی سال صوبے کے لیے 6 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال بھی سندھ کی زرعی آمدن ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے کم رہنے کا خدشہ ہے ۔ پنجاب میں بھی گزشتہ مالی سال 10.5 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 4 ارب روپے زرعی آمدن ٹیکس وصول کیا گیا۔ رواں مالی سال پنجاب کے لیے زرعی آمدن ٹیکس کا ہدف 12.5 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے گزشتہ مالی سال نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل نہ ہونے پر بھی سوالات کیے ۔ ایف بی آر گزشتہ مالی سال نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف سے 929 ارب روپے پیچھے رہا۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ڈیجیٹل انوائسنگ، پیداواری لائنز کی مانیٹرنگ اور دیگر اصلاحاتی اقدامات سے متعلق اہم اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا 7 ہزار ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے سالانہ 15.263 ٹریلین روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی اور سالانہ ہدف کے حصول کو علاقائی سکیورٹی صورتحال سے بھی مشروط کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس سال 2025 میں زرعی آمدن ظاہر کرنے والے 44 ہزار 350 افراد کا ڈیٹا فراہم کیا ہے ۔ سندھ حکومت نے ایف بی آر اور سندھ ریونیو بورڈ کے درمیان ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ اور رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ سندھ میں زرعی آمدن ٹیکس کا انتظام بورڈ آف ریونیو سے سندھ ریونیو بورڈ کو منتقل کیا جاچکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کے ذریعے 3650 رجسٹریشنز مکمل ہوچکی ہیں، جبکہ 1912 زرعی آمدن ٹیکس ریٹرنز بھی فائل کیے جاچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی دوسری فکسڈ ٹیکس اسکیم میں کم رجسٹریشن اور محدود ردعمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تاجروں کے خلاف جرمانوں اور کریک ڈاؤن سے قبل انہیں ٹیکس نظام میں شامل ہونے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے آخری موقع دینے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ٹیکس وصولیوں میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس بیس میں توسیع سمیت مختلف اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments