1 سال حراست کے بعد ضمانت ملزم کا قانونی حق:سپریم کورٹ

1 سال حراست کے بعد ضمانت ملزم کا قانونی حق:سپریم کورٹ

ملزم جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا کی مدت جیل میں گزار چکا، ٹرائل شروع نہ ہوسکا

اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسا فوجداری مقدمہ جہاں ملزم ایک سال سے زائد عرصہ زیر حراست ہو اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر ملزم کی کوتاہی کے باعث نہ ہو تو ضمانت دینا قانونی تقاضا ہے ۔ زیر سماعت قیدی کو عدالت میں پیش کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے ۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے چیک ڈس آنر کیس میں شاہ زیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے ۔ عدالت نے کہا ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ اس وجہ سے زیر التوا رہا کہ ملزم کو جیل سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ دفعہ 497(1) کے تیسرے پرووائزو کے تحت ایسے ملزم کو ضمانت دی جانی چاہیے جس کی سزا موت نہ ہو اور وہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہو۔ ملزم ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ زیر حراست رہا جبکہ دفعہ 489-F کے تحت جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال اور ملزم سزا کی مدت جیل میں گزار چکا ہے مگر ٹرائل شروع نہیں ہوسکا۔ عدالت نے درخواست ضمانت منظور کر کے رہا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...