سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا، مذاکرات عمران تک رسائی نہ دینے پر ناکام ہوئے : اپوزیشن علامیہ
بندکمروں کے فیصلے ،ملٹری آپریشن اور ڈرون حملے قبول نہیں ،ہر روز نئے منصوبے کا اعلان کر ینگے ، خیبرپختونخوا میں پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شرکا سے خطاب مارچ کاجواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں :بیرسٹرگوہر ،حکومت وفاق کے تمام اقدامات و آپریشنز کی توثیق چاہتی تھی :سلمان اکرم ،مطالبات تسلیم ہونے تک مارچ جاری رہے گا:شوکت یوسفزئی
پشاور،اسلام آباد(دنیانیوز،نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعدوزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے روانہ ہونے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک پہنچ گیا اورشرکا آج صبح کوہاٹ کیلئے روانہ ہونگے ، بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے مگر حالیہ مذاکرات میں بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنہیں ان کی حکومت صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے ۔ جب کوئی شخص آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے ، حالانکہ عوام ایسے ہی نظریات کے حامی ہیں۔ عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ان کے مو قف کی حمایت کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک سمجھدار وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو کرپشن کریں اور قومی مفادات پر سمجھوتے کریں۔ انہوں نے پشتونوں کے مسائل، فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تاہم وہ اپنے مو قف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وہ ہر اس قوت کو ‘ایبسلوٹلی ناٹ’ کہیں گے جو پشتونوں کے مفادات کے خلاف فیصلے کرے ۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر پارٹی رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں اور یہ سب ملک کے نوجوانوں اور عوام کے مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے تحریک کا حصہ بنیں، ورنہ حکمران عوام کے وسائل پر قابض رہیں گے ۔ طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔ لانگ مارچ کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا جبکہ صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ‘طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی، اس بار ان کی تحریک کا مقصد کامیابی حاصل کرنا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے ، ان کی حکومت صوبے میں کسی نئی ملٹری کارروائی یا ڈرون حملوں کی پالیسی قبول نہیں کرے گی ، خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہئیں ۔قبل ازیں لکی مروت میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہاکہ آج ( پیر کو ) خیبر میں تعداد لاکھوں تک پہنچ جائے گی۔
جب ہم صوابی پہنچیں گے تو وہاں لاکھوں لوگوں کا سمندر موجود ہوگا۔ ہم ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کر ینگے ۔مذاکرات سے متعلق انہوں نے کہاکہ کل جو مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد میں گئی وہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے گئی تھی۔ ایک مائنڈ سیٹ جو بند کمروں میں فیصلے کرتا ہے ، کل وہ ایک اور فیصلہ آپ پر مسلط کرنے جا رہا تھا۔ یہاں پر عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی۔ ہم کسی ایسی پالیسی کو نہیں مانتے جس میں پشتونوں کا نقصان ہو، خیبرپختونخوا میں راج صرف عمران خان کا ہو گا، نہ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی مانتے ہیں۔ ادھر ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی ‘غیر آئینی یا غیر قانونی’ نہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے سات مطالبات بھی پیش کیے ۔ تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں ناکامی کی بنیادی وجہ حکومت کا یہ اصرار تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت، صوبے میں دہشت گردی کے خلاف وفاق اور اس کے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات اور آپریشنز کی توثیق کرے۔
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی اقدامات کے نفاذ کی توثیق کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کی ٹیم کا موقف یہ تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کسی بھی صورت میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم نے بتایا کہ مذاکرات میں ہمیں کہا گیا آئندہ 72 گھنٹوں میں خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی لگے گی اور فوجی ایکشن لیا جائے گا، ایکشن لینے کا ذکر اردو مسودے میں نہیں کرتے ، انگریزی مسودے میں کردیتے ہیں، ہم نے کہا ہم عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ، ایسا ہرگز نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی رائے پارٹی سے مختلف تھی بلکہ پوری قیادت ایک پیج پر تھی، حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبے پر بات کرنے تک کو تیار نہیں تھی، رات 2 بجکر 40 منٹ پر ہمیں صاف بتا دیا گیا کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جائے گی اور منگل کے روز شیڈول کے مطابق بھی صرف غیر سیاسی لوگوں کو ہی ملنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ، اس کے بعد مذاکرات کو جاری رکھنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز ہی باقی نہیں رہتا تھا، حکومت نے دہشت گردی کا بیانیہ بعد میں صرف اپنے جواز کے لیے گھڑا ہے۔
پولیس ایکٹ پر نظرثانی کی جا سکتی تھی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں بھی کوئی حرج نہیں ، لیکن جب آپ اس پر عمل کرنے کے لیے ڈرون حملے کرتے ہیں یا اس نوعیت کے ملٹری آپریشن کرتے ہیں جس سے ہمارے معصوم لوگ بے گھر ہوتے ہیں، تو اس پر کبھی اتفاقِ رائے نہیں ہو سکتا ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور یہ مارچ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے ۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے مطالبات میں بانی اور ان کی اہلیہ بشریٰ سے ملاقات شامل تھی، جبکہ دہشت گردی سے متعلق بعض معاملات پر مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں جن سے خیبر پختونخوا کے عوام میں نفرت، تقسیم یا تناؤ پیدا ہو، یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات متاثر ہوں۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ عمران خان تک رسائی کو قرار دے دیا۔پشاور سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ سب سے پہلے سیاسی قیادت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت کی اجازت دی جائے لیکن حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ بانی تک رسائی کا معاملہ فی الحال معاہدے میں شامل نہیں ہوگا اور قابلِ غور بھی نہیں ہے ، جس کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا۔ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی کے پی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کرکے مایوس کیا، اب حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے حالات مزید خراب ہونگے۔
مطالبات تسلیم ہونے تک لانگ مارچ جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں گنڈی چوک اس وقت سیاسی سرگرمی کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع کے علاوہ بلو چستان سے قافلے پہنچ رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے چار اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر میں ہفتے کی رات دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کے لوگ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے اپنے اپنے علاقوں سے روانہ ہو رہے ہیں۔گنڈی چوک اور قریبی علاقوں میں موبائل فون کے سگنلز نہ آنے کی اطلاعات ہیں ۔ادھر جنوبی وزیرستان اپر سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے روانہ ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کے قافلے کو پولیس نے مکین کے علاقے دو سڑک کے مقام پر روکنے کی کوشش کی اور اس دوران کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیل پھینکے گئے جس سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ پولیس کے مطابق احتجاجی دھرنے کے دوران بعض شرکا نے پولیس بیریئرز پر حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کیا۔
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد نہ کرے اور یہ بتائے عمران خان تک فوری رسائی کیوں ناقابل قبول قرار دی؟ خیبر پختونخوا میں وسیع مشاورت پر مبنی سکیورٹی حکمت عملی کیوں قبول نہیں کی؟،پی ٹی آئی سیاسی مذاکرات، آئینی عمل اور قومی اتفاق رائے کے لیے تیار ہے ، مذاکرات پیشگی شرائط یا غیر مشروط حمایت کے مطالبے سے کامیاب نہیں ہو سکتے ۔مذاکرات سے متعلق تحریک انصاف کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ مذاکرات بغیر کسی خاطر خواہ پیش رفت کے ختم ہوئے ، مذاکرات میں بنیادی ڈیڈ لاک بانی پی ٹی آئی عمران خان تک فوری رسائی کے معاملے پر رہا، حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قیادت کو بانی سے فوری مشاورت کی اجازت دی جائے ۔ یہ مشاورت قومی اور سیاسی معاملات پر فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہے ، حکومت نے بانی تک رسائی کو معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کیا، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال بھی مذاکرات میں اہم معاملہ رہی، دہشت گردی کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ اور پائیدار امن قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید فوجی، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث جانی نقصان اور نقل مکانی کی بھاری قیمت ادا کی، انسداد دہشت گردی پالیسی میں خیبر پختونخوا کے عوام کے تحفظات اور تجربات کو مرکزی حیثیت دی جائے ، دہشت گردی صرف طاقت یا یک طرفہ اقدامات سے ختم نہیں کی جا سکتی، وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے 72 گھنٹے میں مشترکہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی بنائیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے بھی مشاورت کی جائے ، بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہوتی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ان سے سکیورٹی پالیسی پر براہ راست مشاورت کرسکتے تھے ۔اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان کی صحت اور طبی علاج کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا گیا، انہیں شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے اور مناسب میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کیا گیا، حکومت نے منگل سے بانی سے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقاتیں بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی، خاندان اور وکلا سے ملاقات طبی معائنے اور ضروری علاج کا متبادل نہیں، بانی کی صحت کو سنجیدگی، شفافیت اور انسانی ہمدردی کے ساتھ دیکھا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments