میر رضا کیس:جوڈیشل کمیشن کا جائے وقوع ،اطراف کا پیدل معائنہ
نتائج کیلئے پرامید ، کس نے کیا کیا ریکارڈ پر آگیا ، سمجھ چکا کیا ہوا ، جسٹس عمر سیال مثبت انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ، اگر غلطی ہوئی تو تسلیم کرنا ہوگا، گفتگو ہائیکورٹ کی اکاؤنٹ تک رسائی کی اجازت،حتمی چالان کیلئے مزید 14 دن کی مہلت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)میر رضا کیس کی انکوائری کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کمیشن کے ہمراہ جائے وقوعہ اور اطراف کے علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، اس موقع پر میر رضا کے والد میر حسین، بہن علیشبہ، وکیل جبران ناصر، رجسٹرار عبدالماجد اور سندھ حکومت کے فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ جاوید ابڑو، کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے ۔ کمیشن نے میر رضا کو آن لائن ٹیکسی سے اتارے جانے کی جگہ، مشتبہ گیسٹ ہاؤس، گیسٹ ہاؤس کے عقبی دروازے سے واٹر بورڈ دفتر جانے والی گلی، واٹر بورڈ دفتر، نرسری، لاش ملنے کی جگہ، مسجد خضرا اور اطراف کی گلیوں کا معائنہ کیا۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری نے کمیشن کو مختلف مقامات کی نشاندہی کرائی، جن میں وہ مقام بھی شامل تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو کچھ پھینکتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ نرسری کے قریب لاش ملنے کی جگہ کی نشاندہی مالی یاسر اور قیصر نے کی۔ کمیشن نے ہولسٹر اور خول ملنے کی جگہ کا بھی جائزہ لیا ۔ جسٹس عمر سیال نے تقریباً دو گھنٹے تک جائے وقوع اور اطراف کا پیدل معائنہ کیا ۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ نرسری سے کوئی گملا اٹھایا جائے تو ملازمین کو فوری علم ہوجاتا ہے ، اتنے قریب فائرنگ کی آواز ملازمین کو کیسے سنائی نہیں دی، کمیشن نے نرسری پر وقوع کی رات موجود افراد کو پنجاب سے واپس بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واپس نہ آنے کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کمیشن نے مسجد خضرا کے مؤذن عبداللہ اور خادم سے سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق بھی استفسار کیا، مؤذن نے بتایا کہ کیمروں تک کمیٹی اور پیش امام کی رسائی ہے اور اسے فوٹیج سے متعلق علم نہیں، جس پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ سچ سچ بتائیں، ورنہ آپ بھی مشکوک افراد کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے ۔ کمیشن نے مسجد کے سامنے چوکی پر موجود سیکیورٹی گارڈ سے بھی پوچھ گچھ کی اور تفتیشی افسر کو رات کی ڈیوٹی پر مامور گارڈ کے کوائف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ وکیل جبران ناصر نے مسجد خضرا کے قریب سی سی ٹی وی فوٹیج میں مشکوک گاڑیوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقام سے تین مختلف راستے نکلتے ہیں۔
کمیشن نے کے الیکٹرک سے 28 جولائی کو شام 5 سے 10 بجے تک گلستان جوہر بلاک ون، مسجد خضرا، نرسری اور اطراف میں بجلی کی فراہمی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت کی کہ رپورٹ میں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بجلی کی بندش، خرابی کی نوعیت اور دورانیے کی تفصیلات شامل کی جائیں۔ کے الیکٹرک کو 7 اکتوبر کو رپورٹ سیل شدہ حالت میں کمیشن کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ غیر رسمی گفتگو میں جسٹس عمر سیال نے کہا کہ جائے وقوع کے دورے کی تجویز بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ۔ نتائج کے لیے پرامید ہوں ، کس نے کیا کیا سب ریکارڈ پر آگیا ہے اور وہ سمجھ چکے ہیں کہ کیا ہوا ہے ۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے مثبت انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، اگر غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرنا ہوگا، عوامی افواہیں اب ختم ہونی چاہئیں اور سب کو پولیس کی مدد کرنی چاہیے ، پولیس کے پاس کوئی جادو نہیں ہے ۔ خودکشی طے کرنا پولیس کی غلطی تھی لیکن بدنیتی کی جانچ ضروری ہے ، اگر پولیس کا ابھی بھی نظریہ خودکشی ہے تو اس کے ذمہ دار فرد تک پہنچنا ہوگا اور اگر قتل ہے تو قاتل تلاش کرنا ہوگا۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس کی معلومات اہم پہلو ہے ، سی سی ٹی وی کی مسنگ فوٹیج کو پولیس دیکھ رہی ہے ، وقت کم رہ گیا ہے اور روز نئے لوگ سامنے آتے جائیں گے ۔ وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس افسران کی غفلت سامنے آرہی ہے ، کمیشن کی رپورٹ اہلخانہ کو بھی فراہم کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ کمیشن کی رپورٹ کی ایک کاپی اہلخانہ اور میڈیا کو بھی فراہم کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی بڑے افسر کے خلاف سفارشات آنے کی صورت میں رپورٹ چھپا دی جائے ۔ میر رضا کی بہن علیشبہ نے کہا کہ وہ کمیشن کی شکر گزار ہیں کہ کمیشن نے پورے جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ جوڈیشل کمیشن نے 6 اکتوبر کو مشکوک گاڑیوں سے متعلق صحافیوں کو پریزنٹیشن کے لیے طلب کر رکھا ہے ۔دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے تفتیشی حکام کی درخواست منظور کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم کو بینک اکاؤنٹ اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔
سندھ ہائیکورٹ کی ایک رکنی بینچ نے پراسیکیوشن کی درخواست پر سماعت کی۔ تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پیسے کی لین دین کہاں اور کس کو ہوتی رہی ہے ، بینک حکام نے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کرنے کا کہا جبکہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے بغیر تفتیش کے لیے اکاؤنٹ تک رسائی نہیں دی جاسکتی۔ ادھر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے میر رضا قتل کیس میں حتمی چالان جمع کرانے کے لیے تفتیشی حکام کو مزید 14 دن کی مہلت دے دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments