مہنگی پٹرولیم مصنوعات : مختلف روٹس کے کرایوں میں ہزاروں روپے تک کا اضافہ

 مہنگی پٹرولیم مصنوعات : مختلف روٹس کے کرایوں میں ہزاروں روپے تک کا اضافہ

انٹر سٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ کرایوں میں 10 فیصد تک اضافہ، لانگ روٹ کرائے 12 فیصد تک بڑھائے گئے پشاور سے راولپنڈی، لاہور اور کراچی جانیوالی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 2500 روپے تک اضافہ ہوا

لاہور(شیخ زین العابدین )پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف تین ماہ کے دوران ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پٹرول تقریباً 82 اور ڈیزل76روپے فی لٹرمہنگا ہوا۔سترہ جولائی سے ڈیلی پرائس میکانزم کے نفاذ کے بعد قیمتوں میں اضافے کی رفتار مزید تیز ہوئی، پٹرول 73 روپے اور ڈیزل 86 روپے سے زائد مہنگا ہو چکا ہے ۔ایندھن مہنگا ہوا تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ گئے ، انٹر سٹی، انٹرا سٹیاور گڈز ٹرانسپورٹ سب پر اضافی بوجھ پڑ گیا۔لاہور سے اسلام آباد، پشاور اور کراچی سمیت مختلف روٹس کے کرایوں میں سینکڑوں سے ہزاروں روپے تک اضافہ ہوا، جبکہ پک اینڈ ڈراپ سروس بھی مہنگی ہو گئی۔اعدادوشمار کے مطابق تین ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت 310 روپے 71 پیسے سے بڑھ کر 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی، یعنی فی لیٹر تقریباً 82 روپے کا اضافہ ہوا۔ہائی سپیڈ ڈیزل بھی 323 روپے 30 پیسے سے بڑھ کر 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہو گیا، ڈیزل کی قیمت میں تین ماہ کے دوران تقریباً 76 روپے فی لیٹراضافہ ریکارڈ کیا گیا۔یکم جولائی سے 11 ستمبر تک پٹرول کی قیمت میں 72 روپے ، یعنی تقریباً 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل 87 روپے ، یعنی 28 فیصد تک مہنگا ہوا۔سترہ جولائی سے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے لیے ڈیلی پرائس میکانزم نافذ کیا، جس کے تحت اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کر رہا ہے۔

ڈیلی پرائس اپ ڈیٹ شروع ہونے کے بعد پٹرول 73 روپے 4 پیسے فی لیٹراور ڈیزل 86 روپے 32 پیسے فی لیٹرمہنگا ہو چکا ہے ۔قیمتوں میں اضافے کے دوران 15 ستمبر کو پٹرول 384 روپے 34 پیسے جبکہ ڈیزل 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر بھی پہنچا۔ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ٹرانسپورٹ سیکٹر تک پہنچے ، لوکل پبلک ٹرانسپورٹ کا کم سے کم سٹاپ ٹو سٹاپ کرایہ 50 سے بڑھ کر 60 روپے ہو گیا۔انٹر سٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ کرایوں میں 10 فیصد جبکہ لانگ روٹ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 12 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گڈز ٹرانسپورٹرز نے فریٹ چارجز بھی 15 فیصد بڑھا دئیے ۔پشاور سے راولپنڈی، لاہور اور کراچی جانے والی گاڑیوں کے کرایوں میں 100 سے 2500 روپے تک اضافہ ہوا، جبکہ انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی 5 سے 20 فیصد تک بڑھ گئے ۔لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 2600 سے بڑھ کر 3000، پشاور کا 2890 سے 3500، سرگودھا کا 1300 سے 1550 اور فیصل آباد کا کرایہ 1200 سے بڑھ کر 1350 روپے ہو گیا۔لاہور سے کراچی کا سفر بھی مہنگا ہوا، کرایہ 8000 سے بڑھ کر 8600 روپے تک پہنچ گیا۔صرف پبلک ٹرانسپورٹ ہی نہیں، سکول، کالج اور دفاتر کی پک اینڈ ڈراپ سروسز کے ماہانہ کرایوں میں بھی 500 سے 1000 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...