نیب کی سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات،سیکرٹری ریکارڈ سمیت طلب

نیب کی سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات،سیکرٹری ریکارڈ سمیت طلب

سی سی ای 2023 میں بدعنوانی کا نوٹس ، امیدواروں کے نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر، بینک چالان پیش کرنیکی ہدایت کامیاب ہوکر انٹرویو کیلئے اہل ہر امیدوار کی علیحدہ فائل فراہم کرنے کی ہدایت ،رکاوٹیں ڈالنے پر 10سال قید کی سزا:نیب

کراچی (سٹاف رپورٹر) نیب کراچی نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے مشترکہ مسابقتی امتحان 2023 میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے سیکرٹری کو ریکارڈ اور متعلقہ افسر کو 20 اکتوبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ نیب کی جانب  سے طلبی نوٹس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے متعلقہ حکام اور دیگر کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں گریڈ 18 یا اس سے اعلیٰ افسر کو متعلقہ قوانین اور قواعد سے مکمل آگاہی کے ساتھ نیب کراچی کے دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ نوٹس کے مطابق چیئرمین نیب کو موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر سی سی ای 2023 میں مبینہ بدعنوانی کا نوٹس لیا گیا ہے اور ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ۔ نیب نے امتحان میں درخواستیں دینے والے تمام امیدواروں کے نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر، درخواست اور بینک چالان کی تفصیلات، امتحان میں شرکت اور کامیابی یا ناکامی کا ریکارڈ طلب کیا ہے ۔ سکریننگ ٹیسٹ اور تحریری امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کی الگ الگ تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

نوٹس میں 2 فروری 2026 کو اعلان کردہ امتحانی نتائج، ہر کیڈر میں اعلان کردہ اور تقرری کے لیے تجویز کردہ اسامیوں کی تعداد، مختلف محکموں کی جانب سے بھیجی گئی اسامیوں کی طلب، امتحان کے اشتہارات، تحریری امتحان اور انٹرویو کے عمل، کامیاب امیدواروں کی جانب سے جمع کرائے گئے آفر اور قبولیت کے خطوط، تقرری کے نوٹیفکیشنز اور جوائننگ رپورٹس کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ نیب نے امیدواروں کے میرٹ اور اسامیوں کی الاٹمنٹ کے تعین سے متعلق رپورٹ، اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والے قواعد اور مکمل فارمولے کے تحت کی گئی حساب کتاب کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام دستیاب اسامیوں کی کوٹہ وار اور کیڈر یا گروپ کے لحاظ سے تقسیم، کوٹے کے حسابات اور امیدواروں کی مجموعی تعداد سے متعلق تفصیلات مخصوص فارمیٹس میں فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ انٹرویو کمیٹی یا پینل کے ارکان کے نام، شناختی کارڈ نمبرز، کمیشن میں ان کی حیثیت، تقرری اور جوائننگ کی تاریخوں سمیت چارج چھوڑنے کی رپورٹس بھی طلب کی گئی ہیں۔ تحریری امتحان میں کامیاب ہوکر انٹرویو کے لیے اہل قرار پانے والے ہر امیدوار کی علیحدہ فائل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، جس میں درخواست، امتحان میں شرکت اور حاضری کے شواہد سمیت متعلقہ دستاویزات شامل ہوں۔ نیب نے ہر امیدوار کی انٹرویو اسیسمنٹ شیٹس، فائلیں اور انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگز بھی طلب کرلی ہیں۔ نوٹس کے مطابق امیدواروں اور اسامیوں کا ریکارڈ مقررہ فارمیٹس میں مصدقہ نقول کے ساتھ فراہم کرنے کے علاوہ ایم ایس ورڈ، ایم ایس ایکسل اور پی ڈی ایف فارمیٹس میں سافٹ کاپیاں بھی جمع کرانا ہوں گی۔ نیب نے خبردار کیا کہ نوٹس پر عمل نہ کرنے اور تحقیقات میں دانستہ رکاوٹ ڈالنے ، گمراہ کرنے کی کوشش پر کارروائی کی جاسکتی ہے ، جس میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا مقرر ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...